Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

روس سے ڈیزل لے کر تین ٹینکر امریکی بندرگاہوں کی جانب رواں، ٹرمپ، پیوٹن معاہدے پر کانگریس میں مخالفت اور قانونی تنازعہ

روس سے ڈیزل لے کر تین ٹینکر امریکی بندرگاہوں کی جانب رواں، ٹرمپ، پیوٹن معاہدے پر کانگریس میں مخالفت اور قانونی تنازعہ

روس سے ڈیزل لے کر آنے والے 3 بحری ٹینکر بحرِ اوقیانوس عبور کرتے ہوئے امریکی بندرگاہوں کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ چوتھے ٹینکر کی 28 اکتوبر کو روس سے روانگی متوقع ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس سے ایندھن کی درآمد کی اجازت دینے کے فیصلے نے کانگریس میں مخالفت کو جنم دیا ہے،اس کے ساتھ ہی ان کمپنیوں کی تحقیقات کرانے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں جو ان ترسیلات میں شامل ہیں
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز ڈیجیٹل کے مطابق، امریکی محکمہ خزانہ میں پابندیوں کے سابق عہدیدار نے کہا ہے کہ 2022 کے اس قانون کے باوجود صدر کو روسی ایندھن کی درآمد کی اجازت دینے کا قانونی اختیار حاصل ہے جس کے تحت روسی توانائی کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی تھی،ان کے مطابق، حکومت کی جانب سے کسی درآمد کی اجازت دینے کا مطلب یہ نہیں کہ قانون میں موجود بنیادی پابندی ختم ہو گئی ہے
قانونی فرم ہیوز ہبارڈ اینڈ ریڈ کے شریکِ سربراہ جیریمی پینر نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعتراض قانونی بنیاد نہیں رکھتا کہ صدر نے 2022 کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے،ان کے بقول، صدر کو اس معاملے میں درآمد کی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے
روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے بھی منگل کو گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ان ٹینکروں کی نقل و حرکت کی تصدیق کی،انہوں نے بتایا کہ چوتھے بحری جہاز کی روس سے روانگی 28 اکتوبر کو متوقع ہے
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ یوکرین کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی صارفین کو ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے لیے روس کے حوالے سے مختلف حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،تاہم، روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت دینے کے فیصلے نے پابندیوں کی قانونی حیثیت، صدارتی اختیارات اور اس کاروبار میں شامل کمپنیوں کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے

قومی خبریں سے مزید