Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل ایک بار پھر سیاسی بے یقینی کی طرف، نیتن یاہو اور اپوزیشن دونوں اکثریت سے محروم، حکومت سازی کے کئی راستے زیرِ غور، نئے انتخابات بھی ممکنہ آپشن ہوسکتا ہے

اسرائیل ایک بار پھر سیاسی بے یقینی کی طرف، نیتن یاہو اور اپوزیشن دونوں اکثریت سے محروم، حکومت سازی کے کئی راستے زیرِ غور، نئے انتخابات بھی ممکنہ آپشن ہوسکتا ہے

اسرائیل کے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج نے ملک کو ایک بار پھر سیاسی غیر یقینی کی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے،وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلے کے باوجود کسی بھی فریق کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی،ابتدائی ایگزٹ پولز میں اپوزیشن اتحاد کو تقریباً 52 نشستیں اور نیتن یاہو کے اتحاد کو 50 نشستیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا، جبکہ بعد کے تخمینوں میں دونوں کی نشستوں کی تعداد تقریباً برابر دکھائی گئی،اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انفرادی جماعت کی حیثیت سے توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے، لیکن اس کی کامیابی فی الحال حکومتی اتحاد کے لیے اکثریت میں تبدیل ہوتی نظر نہیں آ رہی،ابتدائی اندازوں کے مطابق عرب جماعتیں مجموعی طور پر 17 سے 18 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں،ان کی پارلیمانی قوت حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن بن سکتی ہے، لیکن عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد یا ان کی حمایت حاصل کرنے کا معاملہ اسرائیل کی بڑی یہودی جماعتوں کے لیے سیاسی طور پر حساس ہے
نیتن یاہو کے لیے یہ انتخابات محض پارلیمانی نشستوں کا مقابلہ نہیں بلکہ ان کی طویل سیاسی قیادت پر عوامی فیصلے کی حیثیت بھی رکھتے ہیں،7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے اور اسرائیل کی سکیورٹی میں ناکامی کے بعد ان کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے،اس کے باوجود حماس، حزب اللہ اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو اپنی کامیابی قرار دے کر نیتن یاہو نے انتخابی مہم میں اپنی قیادت کا دفاع کیا،ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات بھی جاری ہیں، جنہوں نے ان کے سیاسی مستقبل کو مسلسل بحث کا موضوع بنائے رکھا ہے
دوسری جانب، آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن نیتن یاہو کی جگہ نئی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے،تاہم، اپوزیشن کی جماعتوں کے درمیان بھی نظریاتی اور سیاسی اختلافات موجود ہیں،مختلف جماعتوں کے لیے یہ طے کرنا آسان نہیں ہوگا کہ وزارت عظمیٰ کس کے پاس ہو، حکومت کی پالیسی کیا ہو اور متنازعہ معاملات پر کس حد تک سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے،اس لیے اپوزیشن کو نشستوں میں معمولی برتری حاصل ہونے کے باوجود حکومت بنانے کے لیے مشکل مذاکرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
حکومت سازی کا پہلا ممکنہ راستہ یہ ہے کہ نیتن یاہو اپنے روایتی اتحادیوں کو ساتھ ملا کر دوبارہ حکومت بنانے کی کوشش کریں،ان میں مذہبی جماعتیں اور دائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں، جن کے ساتھ وہ ماضی میں حکومتیں قائم کرتے رہے ہیں،لیکن اگر ان جماعتوں کی مجموعی نشستیں 61 تک نہ پہنچیں تو نیتن یاہو کو نئے اتحادی تلاش کرنا ہوں گے یا اپنے سیاسی مخالفین میں سے کسی جماعت کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی،یہ راستہ اس لیے بھی مشکل ہوگا کہ انتخابی مہم کے دوران جماعتوں نے اپنے ووٹروں سے متعدد سیاسی وعدے کیے ہیں
دوسرا امکان یہ ہے کہ آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں ایک مشترکہ حکومت قائم کرنے پر متفق ہو جائیں،اس کے لیے انہیں نہ صرف مطلوبہ پارلیمانی حمایت حاصل کرنا ہوگی بلکہ وزارت عظمیٰ، حکومتی پالیسی اور اہم عہدوں کی تقسیم پر بھی اتفاق کرنا ہوگا،اپوزیشن کے اندر اختلافات اس کوشش کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں، خصوصاً اگر بعض جماعتیں آئزن کوٹ کی قیادت یا دوسرے اتحادیوں کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے پر تحفظات رکھتی ہوں
تیسرا راستہ ایک اقلیتی حکومت کا قیام ہو سکتا ہے، جس میں عرب جماعتیں کابینہ کا حصہ بنے بغیر پارلیمان میں حکومت کو اعتماد کا ووٹ دینے یا اسے گرنے سے بچانے میں کردار ادا کریں،عرب جماعتوں نے اپنی حمایت کے بدلے عرب شہریوں کے مسائل، جرائم کی روک تھام، مکانات کی مسماری اور فلسطینیوں کے ساتھ سیاسی حل کے امکانات جیسے معاملات پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے،تاہم، آئزن کوٹ سمیت اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کی جانب سے عرب جماعتوں کے ساتھ باضابطہ اتحاد کے بارے میں تحفظات اس راستے کی بڑی رکاوٹ ہیں،اگر حکومت ان کی حمایت پر منحصر ہوئی تو اسے اپنے اتحادیوں کے درمیان شدید اختلافات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے
چوتھا امکان نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کے درمیان وسیع قومی اتحاد کی حکومت کا ہے،اگر دونوں مخالف کیمپ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے مختلف جماعتوں کو ایک مشترکہ حکومت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں،ایسی حکومت میں وزارت عظمیٰ کی باری باری ذمہ داری سنبھالنے کا فارمولا بھی زیرِ غور آ سکتا ہے،تاہم، دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی اختلافات اور نیتن یاہو کی قیادت پر اپوزیشن کے اعتراضات اس امکان کو دشوار بناتے ہیں
پانچواں راستہ یہ ہے کہ کوئی بھی فریق حکومت بنانے کے لیے درکار حمایت حاصل نہ کر سکے اور اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑے،ایسی صورت میں موجودہ حکومت نئی حکومت کے قیام تک نگران حکومت کے طور پر کام جاری رکھ سکتی ہے،اسرائیل حالیہ برسوں میں بار بار انتخابات اور غیر مستحکم اتحادوں کا تجربہ کر چکا ہے، اس لیے ایک اور انتخابی مرحلے کا امکان سیاسی بحث میں اہم جگہ رکھتا ہے
انتخابات کے بعد اگلا اہم مرحلہ سرکاری نتائج کی تکمیل اور حکومت سازی کے لیے سیاسی مشاورت ہوگا،صدر ہرزوگ پارلیمان میں منتخب جماعتوں کے نمائندوں سے مشورہ کریں گے اور اس رکنِ پارلیمان کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپیں گے جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ وہ اتحادیوں کی حمایت حاصل کر سکتا ہے،اس عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں،اگر ابتدائی امیدوار ناکام ہو جائے تو دوسرے امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے، جبکہ تمام کوششیں ناکام ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کا راستہ کھل سکتا ہے
اس انتخابی نتیجے کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون سا سیاسی اتحاد پارلیمان میں 61 ارکان کی حمایت جمع کر سکتا ہے،نیتن یاہو کی جماعت کی نسبتاً بہتر کارکردگی کے باوجود ان کے اتحاد کو درکار اکثریت حاصل نہ ہونا اور اپوزیشن کا بھی واضح اکثریت سے محروم رہنا اسرائیل کو طویل مذاکرات، غیر متوقع سیاسی سمجھوتوں یا ایک اور انتخابی مرحلے کی طرف لے جا سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید