Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کے انتخابی حملوں میں الہان عمر اور عبدل السید نشانے پر، دو ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا دعویٰ، محصولات سے امریکی صنعت کی واپسی کا اعلان

ٹرمپ کے انتخابی حملوں میں الہان عمر اور عبدل السید نشانے پر، دو ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا دعویٰ، محصولات سے امریکی صنعت کی واپسی کا اعلان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ٹیکساس کے شہر کارپس کرسٹی میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی معاشی پالیسیوں، سرحدی کنٹرول، محصولات اور صنعتی سرمایہ کاری کو حکومت کی بڑی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا،انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ میں گزشتہ 15 سے 16 ماہ کے دوران 2ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے، جبکہ جو بائیڈن کے چار سالہ دور میں یہ رقم ان کے مطابق نصف ٹریلین ڈالر تھی،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ محصولات نے بیرون ملک پیداوار کرنے والی کمپنیوں کو امریکہ میں کارخانے لگانے پر مجبور کیا ہے اور امریکی صنعت کئی دہائیوں بعد دوبارہ وسعت اختیار کر رہی ہے
ٹیکساس میں خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ محصولات سے امریکہ کو آمدنی حاصل ہو رہی ہے، نئی فیکٹریاں تعمیر ہو رہی ہیں اور گاڑیوں سمیت مختلف صنعتوں کی پیداوار واپس ملک میں منتقل ہو رہی ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے تقریباً 49 برس تک امریکی گاڑیوں کے کارخانے بیرون ملک منتقل ہوتے رہے، لیکن اب یہ رجحان تبدیل ہو رہا ہے،انہوں نے آڈی کی جانب سے 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور سالانہ 200,000 گاڑیوں کی پیداواری صلاحیت رکھنے والے پلانٹ کا ذکر کیا،ٹرمپ نے کہا کہ ٹویوٹا بھی ٹیکساس میں سرمایہ کاری کر رہی ہے اور امریکی منڈی میں گاڑیوں کی مقامی پیداوار بڑھ رہی ہے
صدر نے ادویات سازی کی صنعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے دوران امریکہ کو احساس ہوا کہ بہت سی اہم ادویات بیرون ملک تیار کی جا رہی تھیں،ان کے مطابق ایلی للی، فائزر اور مرک سمیت بڑی دوا ساز کمپنیاں اب امریکہ میں نئی پیداواری تنصیبات اور لیبارٹریاں تعمیر کر رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کو ابتدا میں اپنی صنعتیں قائم کرنے کے لیے وقت دیا جائے گا، لیکن بعد میں امریکہ سے باہر تیار ہونے والی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں،ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ میں کارخانے قائم کرنے والی کمپنیوں کو محصولات سے بچنے کا فائدہ ملے گا، جبکہ بیرون ملک پیداوار جاری رکھنے والوں کو امریکی منڈی میں داخل ہونے کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے، انہوں نے کہا مہنگی ادوایات سے سستی ادویات کے دور میں داخل ہورہے ہیں
ٹرمپ نے سرمایہ کاری کے اعلانات کو اپنی معاشی حکمت عملی کا مرکزی نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں روزگار، آمدنی، برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے،انہوں نے اسٹاک مارکیٹ کی بلند ترین سطحوں اور امریکی شہریوں کے ریٹائرمنٹ کھاتوں کی قدر میں اضافے کا بھی ذکر کیا،ان کے مطابق ٹیکس میں ریلیف، توانائی کی پیداوار اور کاروباری اداروں کے لیے مراعات سے امریکی معیشت کو مزید تقویت ملے گی،انہوں نے ٹپس اور اوور ٹائم آمدنی پر ٹیکس میں ریلیف، سوشل سکیورٹی سے متعلق ٹیکس رعایتوں اور امریکہ میں تیار ہونے والی گاڑیوں کے قرضوں پر سود کی کٹوتی کو بھی اپنی حکومت کے اقدامات میں شمار کیا
سرحدی پالیسی کے بارے میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے غیر قانونی امیگریشن کو روکنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے،انہوں نے جو بائیڈن کی سابق انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ اس کے دور میں بڑی تعداد میں لوگ غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری عدم تحفظ کا شکار ہوئے،صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت نے سخت اقدامات کے ذریعے سرحدی صورت حال تبدیل کی اور امیگریشن قوانین نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنایا،انہوں نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور بارڈر پٹرول کے اہلکاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والوں کو ملک سے نکالنا ان کی حکومت کے مشکل ترین کاموں میں شامل ہے
ٹرمپ نے ٹیکساس کے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کریں،انہوں نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ان کی حکومت کی معاشی اور سرحدی پالیسیاں متاثر ہوں گی،انہوں نے ٹیکساس کے ریپبلکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کی حمایت کرتے ہوئے ان کے انتخاب کو اہم قرار دیا اور ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالیریکو پر الزام لگایا کہ ان کی پالیسیاں تیل، گیس، صنعت اور روزگار کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی
ٹرمپ کی انتخابی مہم میں معاشی پالیسیوں کے ساتھ ڈیموکریٹ سیاست دانوں پر ذاتی اور مذہبی بنیادوں پر حملے بھی نمایاں رہے ہیں،انہوں نے ایک دوسری انتخابی تقریر میں مینی سوٹا سے ڈیموکریٹ کانگریس وومن الہان عمر کی شناخت، نام، شادی اور خاندانی معاملات کو موضوع بنایا،ٹرمپ نے ان کے شوہر کے بارے میں پرانے الزامات کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے اپنی شناخت کے حوالے سے دھوکا دیا،انہوں نے صومالیہ کے حکومتی نظام پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ وہاں مؤثر حکومت اور پولیس کا نظام موجود نہیں،ٹرمپ نے الہان عمر کے امریکی آئینی حقوق کا حوالہ دینے پر اعتراض کیا اور کہا کہ انہیں کانگریس میں نہیں ہونا چاہیے تھا
مشی گن میں سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید بھی ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ بنے،ٹرمپ نے انہیں جہادی قرار دیا اور ان پر شریعت نافذ کرنے کے عزائم سے متعلق الزامات عائد کیے،انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کرتے ہوئے ووٹروں سے کہا کہ وہ عبدل السید کو سینیٹ تک پہنچنے سے روکیں،ان بیانات میں ٹرمپ نے مذہبی شناخت، امیگریشن اور قومی سلامتی کو انتخابی سیاست کے اہم موضوعات کے طور پر استعمال کیا
ٹرمپ کی انتخابی مہم کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ محصولات، سرحدی کنٹرول، ٹیکس میں ریلیف اور صنعتی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ کی معاشی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کی کامیابی ان پالیسیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے،دوسری جانب الہان عمر اور عبدل السید کے خلاف ان کے حملوں نے انتخابی بحث میں مذہبی شناخت، امریکی آئینی حقوق اور سیاسی نمائندگی کے سوالات کو بھی نمایاں کر دیا ہے

قومی خبریں سے مزید