ہیملٹن کے میئر کے امیدواروں کے درمیان ٹیکس، رہائش، جرائم اور شہری سہولتوں پر اختلافات نمایاں
کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر ہیملٹن میں میئر کے انتخاب کے لیے 3 نمایاں امیدواروں، موجودہ میئر اینڈریا ہوروَتھ، سٹی کونسلر روب کوپر اور کاروباری رہنما کیانن لومس کے درمیان مقابلے میں شہری مسائل اہم موضوع بن گئے ہیں امیدواروں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کو کیسے محدود کیا جائے، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی مرمت کے لیے رقم کہاں سے آئے، رہائش کے اخراجات کیسے کم ہوں اور بے گھری و جرائم سے کیسے نمٹا جائے۔ 26 اکتوبر 2026 کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل ان امیدواروں کی پالیسیوں میں فرق ووٹروں کے لیے اہمیت رکھتا ہے
موجودہ میئر اینڈریا ہوروَتھ کا مؤقف ہے کہ ان کے گزشتہ دور میں شہر کے پرانے انفراسٹرکچر، سڑکوں، پانی کی فراہمی، ٹرانزٹ اور رہائش کے منصوبوں پر سرمایہ کاری ضروری تھی ان کے دور میں پراپرٹی ٹیکس میں 2023 میں 5.85 فیصد، 2024 میں 5.79 فیصد، 2025 میں 5.6 فیصد اور 2026 میں 3.87 فیصد اضافہ ہوا ہوروَتھ ان اضافوں کا دفاع کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ شہر کو برسوں سے جمع ہونے والی بنیادی سہولتوں کی کمی پوری کرنے کے لیے سرمایہ کاری کرنا پڑی اب ان کا وعدہ ہے کہ آئندہ پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ مہنگائی کی شرح سے کم رکھا جائے گا اور مالی مشکلات کا شکار خاندانوں اور کاروباروں کے لیے ٹیکس اور فیس کی ادائیگی میں رعایت یا مؤخر کرنے کے طریقے متعارف کرائے جائیں گے
روب کوپر نے ٹیکسوں کے معاملے پر مختلف حکمت عملی پیش کی ہے ان کا وعدہ ہے کہ پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ مہنگائی کی شرح سے زیادہ نہیں ہونے دیا جائے گا وہ سٹی ہال کے اخراجات، سرکاری ٹھیکوں، منصوبوں کی لاگت اور سرکاری محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے حامی ہیں ان کے مطابق اگر شہری حکومت کے اخراجات کو بہتر طریقے سے منظم کیا جائے اور غیر ضروری خرچ ختم کیا جائے تو شہریوں پر مزید مالی بوجھ ڈالے بغیر خدمات بہتر بنائی جا سکتی ہیں وہ ہر ماہ مالیاتی رپورٹ جاری کرنے اور یہ بتانے کی بھی حمایت کرتے ہیں کہ شہری حکومت کو ملنے والی رقم کہاں خرچ ہوئی اور اس کے نتیجے میں شہریوں کو کیا فائدہ پہنچا
کیانن لومس، جو ہیملٹن چیمبر آف کامرس کے سابق سربراہ اور اسٹیل کی صنعت سے وابستہ کاروباری رہنما ہیں، ٹیکسوں میں اضافے کے لیے کوئی مخصوص شرح مقرر کرنے کے بجائے شہر کے مالیاتی نظام کی مکمل جانچ کے حامی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر محکمے کو اپنے اخراجات اور خدمات کے نتائج کا جواز پیش کرنا چاہیے وہ انتظامی ڈھانچے، عملے اور سرکاری خدمات کے طریقہ کار کا جائزہ لے کر بچت اور بہتر کارکردگی کے مواقع تلاش کرنا چاہتے ہیں ان کی حکمت عملی میں کاروباری سرمایہ کاری بڑھانا اور شہر کی صنعتی و تجارتی ٹیکس آمدنی میں اضافہ کرنا بھی شامل ہے، تاکہ رہائشیوں پر پراپرٹی ٹیکس کا انحصار کم کیا جا سکے
انتخابی مہم میں ایک اور اہم تنازع بارش کے پانی کی نکاسی سے متعلق مجوزہ فیس ہے، جسے ناقدین ’’رین ٹیکس‘‘ کہتے ہیں اس منصوبے کے تحت ایسی جائیدادوں سے فیس وصول کرنے کی تجویز ہے جہاں عمارتوں، پارکنگ لاٹس اور دیگر پختہ سطحوں کی وجہ سے بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے نکاسی کے نظام میں جاتا ہے اس کا مقصد بارش کے پانی کی نکاسی، نالوں اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کے اخراجات پورے کرنا ہے کاروباری اداروں، زرعی کاروباروں اور بعض جائیدادوں کے مالکان کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کے اخراجات بڑھ جائیں گے
روب کوپر اس مجوزہ فیس کو ختم کرنے کے حامی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے کاروباروں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے اینڈریا ہوروَتھ نے اس فیس کی حمایت کی ہے، جبکہ کیانن لومس نے حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے مزید معلومات اور شہری عملے کی رپورٹ کا انتظار کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے شہری کونسل نے دسمبر 2025 میں اس فیس کے نفاذ کو مؤخر کرکے یکم جنوری 2027 تک منتقل کر دیا تھا، اس لیے اس کا مستقبل بھی انتخابی بحث کا اہم حصہ بن گیا ہے
خالی رہائشی یونٹس پر مجوزہ ٹیکس بھی امیدواروں کے درمیان اختلاف کا موضوع ہے اس ٹیکس کا مقصد خالی رہائشی جائیدادوں کی نشاندہی کرکے مالکان کو انہیں کرائے پر دینے یا استعمال میں لانے کی ترغیب دینا ہے، تاکہ رہائش کی دستیابی بڑھانے میں مدد مل سکے روب کوپر اس ٹیکس کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اسے شہریوں و جائیداد مالکان پر غیر ضروری بوجھ قرار دیتے ہیں اینڈریا ہوروَتھ اس پالیسی کی حمایت کرتی ہیں، جبکہ کیانن لومس چاہتے ہیں کہ پہلے ٹیکس کے اعلان اور اندراج کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جائے اور پھر اس کے حقیقی اخراجات اور فوائد کا جائزہ لیا جائے ہوروَتھ کے معاملے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنوری 2024 سے خالی یونٹ ٹیکس پر ہونے والی ووٹنگ میں انہوں نے اپنی ذاتی جائیداد کی وجہ سے مفادات کے ٹکراؤ کا اعلان کرتے ہوئے ووٹ نہیں دیا
شہر میں جرائم، منشیات کے کھلے استعمال، بے گھری اور شہری علاقوں میں تحفظ کا احساس بھی اہم انتخابی مسائل ہیں روب کوپر پولیس کی نمایاں موجودگی بڑھانے، اسکولوں میں پولیس کے رابطے کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کے لیے کمیونٹی پروگراموں میں سرمایہ کاری کی حمایت کرتے ہیں وہ ہیملٹن پولیس سروس بورڈ میں اپنی مدت کے دوران فعال کردار ادا کرنے کا وعدہ بھی کرتے ہیں
اینڈریا ہوروَتھ کا مؤقف ہے کہ جرائم اور بے گھری سے نمٹنے کے لیے پولیس کے ساتھ سماجی خدمات، ذہنی صحت کی مدد اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کی تجویز میں شہر کے مرکزی علاقے کے لیے ایسا مشترکہ نظام شامل ہے جو بلدیاتی نفاذ کے عملے، سماجی کارکنوں اور معاون خدمات کو ایک ساتھ لائے کیانن لومس بھی پولیس بورڈ میں مکمل مدت خدمات انجام دینے، پولیس کی کارکردگی کے واضح اہداف مقرر کرنے اور نتائج کی پیمائش پر زور دیتے ہیں اس طرح تینوں امیدوار شہری تحفظ کو اہم قرار دیتے ہیں، لیکن ان کے طریقہ کار اور ترجیحات میں فرق ہے
رہائش کا بحران ایک اور بڑا مسئلہ ہے اینڈریا ہوروَتھ کی منصوبہ بندی میں 2,000 نئے معاون رہائشی یونٹس کی تعمیر، بلدیاتی زمین کو رہائشی منصوبوں کے لیے استعمال کرنا اور خالی دفتری عمارتوں کو رہائش میں تبدیل کرنے کی تجاویز شامل ہیں روب کوپر گھر خریدنے کو نسبتاً آسان بنانے، رہائش کی تعمیر میں رکاوٹیں کم کرنے اور بے گھری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ذہنی صحت، نشے کے علاج اور معاون رہائش کے پروگراموں کو وسعت دینے کے حامی ہیں کیانن لومس بھی رہائش کی تعمیر کے لیے منظوریوں کے عمل کو تیز کرنے اور انتظامی رکاوٹیں کم کرنے پر زور دیتے ہیں ان کے درمیان بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ ان منصوبوں کے لیے رقم کیسے فراہم کی جائے، تعمیراتی فیصلے کس رفتار سے ہوں اور ان کے نتائج کی نگرانی کیسے کی جائے
ہیملٹن کی سڑکوں، عوامی ٹرانزٹ اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت بھی انتخابی مہم کا حصہ ہے لومس کا منصوبہ شہری نقل و حرکت، سڑکوں اور تعمیراتی کاموں کے بہتر باہمی رابطے اور بس، لائٹ ریل اور گو ٹرانزٹ کے درمیان بہتر ربط پر توجہ دیتا ہے کوپر سڑکوں کی مرمت کے لیے شہر گیر منصوبہ بنانے اور صوبائی حکومت سے بعض بڑے شاہراہوں کی ذمہ داری سنبھالنے کا مطالبہ کرنے کے حامی ہیں ہوروَتھ عوامی ٹرانزٹ کی تبدیلی اور لائٹ ریل کے منصوبے پر کام جاری رکھنے کو شہر کی طویل مدتی ضروریات کا حصہ قرار دیتی ہیں
مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر بھی اختلاف کا ایک نیا موضوع بن چکی ہے ہوروَتھ اور لومس ایسے منصوبوں کو سرمایہ کاری، روزگار اور کینیڈا کے ڈیجیٹل ڈیٹا پر ملکی اختیار بڑھانے کا موقع سمجھتے ہیں، تاہم لومس ہر منصوبے کے اخراجات، بجلی اور پانی کی ضروریات اور کمیونٹی پر اثرات کی جانچ کے حامی ہیں کوپر بھی ہر منصوبے کو الگ بنیادوں پر جانچنے کی حمایت کرتے ہیں، تاکہ نجی کمپنیوں کے منصوبوں کا مالی بوجھ شہری ٹیکس دہندگان پر نہ پڑے۔ شہر میں اس معاملے پر مکمل پابندی کی تجویز بھی زیر بحث رہی ہے
ہیملٹن کی معیشت کے لیے یہ انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ شہر کے بڑے صنعتی اداروں اور صحت کے شعبے میں ملازمتوں میں کمی نے روزگار اور معاشی استحکام کے خدشات بڑھائے ہیں اکتوبر کے آغاز میں اسٹیلکو میں 350 اور ہیملٹن ہیلتھ سائنسز میں 413 ملازمتیں ختم ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں ایسے حالات میں امیدواروں کے لیے صرف ٹیکسوں کا وعدہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ انہیں یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ مقامی سرمایہ کاری، روزگار، کاروباروں کی ترقی اور شہری خدمات کے اخراجات میں توازن کیسے پیدا کیا جائے گا
ہیملٹن کے بلدیاتی انتخابات میں میئر کے ساتھ شہری کونسل اور اسکول بورڈ کے نمائندوں کا انتخاب بھی شامل ہے میئر کے فیصلوں کے علاوہ کونسل کی حمایت، صوبائی و وفاقی حکومتوں کے ساتھ تعاون اور شہر کی مالی حالت بھی پالیسیوں پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کریں گے اس لیے امیدواروں کے انتخابی وعدوں اور عملی اختیارات کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے
شہریوں کے لیے بنیادی سوال یہی ہے کہ کون سا امیدوار ٹیکسوں میں اضافے کو محدود رکھنے کے ساتھ سڑکوں، پانی، ٹرانزٹ، رہائش اور تحفظ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قابل عمل منصوبہ پیش کرتا ہے ایک طرف اخراجات میں بچت اور ٹیکسوں میں کمی کی خواہش ہے، تو دوسری طرف بنیادی سہولتوں کی مرمت اور رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ان ترجیحات کے درمیان توازن ہی اگلی شہری حکومت کی کارکردگی کا اہم پیمانہ ہوگا





