لاطینی کمیونٹی کے ووٹ امریکی وسط مدتی انتخابات کے 5 اہم مقابلوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں
امریکا میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں لاطینی ووٹرز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،انتخابات میں صرف 11 دن باقی رہ گئے ہیں اور لاکھوں امریکی مقامی سطح کے اہم انتخابی مقابلوں میں ووٹ ڈالنے کے ساتھ کانگریس میں طاقت کے توازن کا بھی فیصلہ کریں گے،ایسے میں لاطینی ووٹرز ان گروہوں میں شامل ہیں جن کے ووٹ نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں
2024 کے صدارتی انتخابات میں لاطینی ووٹرز کے رجحان میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی تھی،کئی دہائیوں تک بڑی حد تک ڈیموکریٹک جماعت کی حمایت کرنے والے اس ووٹر گروپ کے ایک بڑے حصے نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی تھی، اس وقت لاطینی ووٹرز کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 62 لاکھ بتائی گئی تھی، جو مجموعی ووٹروں کا تقریباً 15 فیصد بنتی ہے،ٹرمپ کو اس گروپ کی حمایت ماضی کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ حاصل ہوئی
انتخابات کے بعد بعض سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ لاطینی ووٹرز مستقل طور پر ری پبلکن جماعت کی طرف منتقل ہو رہے ہیں اور رونالڈ ریگن کے دور سے منسوب اس خیال کی تصدیق ہو گئی ہے کہ لاطینی ووٹرز کو ری پبلکن جماعت کی حمایت کرنی چاہیے،تاہم، اس سیاسی تشریح کو زیادہ عرصہ گزرنے سے پہلے ہی چیلنجز کا سامنا ہونے لگا
،2025 میں کیلیفورنیا میں لاطینی ووٹرز نے ڈیموکریٹس کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا،انہوں نے ریاستی انتخابی نقشے میں تبدیلی کی تجویز 50 کی منظوری میں مدد دی، جس کے ذریعے ڈیموکریٹس نے ٹیکساس میں ری پبلکنز کی جانب سے کانگریسی حلقوں کی نئی حدبندی کے جواب میں اپنی انتخابی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی،اسی طرح ورجینیا اور نیو جرسی کے 2025 کے گورنر انتخابات میں بھی لاطینی ووٹروں کی بڑی تعداد نے ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت کی،
لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق، لاطینی ووٹرز میں ری پبلکن جماعت سے مایوسی کی وجوہات میں مہنگائی، ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی، بیرون ملک جنگوں میں امریکی شمولیت اور معیشت کی سست رفتار شامل ہیں،اکتوبر کے اوائل میں این بی سی نیوز کے ایک سروے میں لاطینی ووٹروں کے درمیان ٹرمپ کی منظوری کی شرح 27 فیصد رہ گئی، جبکہ کانگریس کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہونا چاہیے، اس سوال پر ڈیموکریٹس کو 24 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی
سیاسی تجزیہ کار مائیک میڈرڈ کے مطابق، اس تبدیلی کو لاطینی ووٹروں کی کسی ایک جماعت کی طرف مستقل منتقلی کے بجائے دونوں بڑی جماعتوں سے دوری کے طور پر دیکھنا چاہیے،ان کے خیال میں یہ ووٹر اپنی معاشی اور سماجی ترجیحات کے مطابق حمایت تبدیل کر رہے ہیں
لاس اینجلس کے میئر کا انتخاب اس رجحان کی ایک مثال ہے،میئر کیرن باس کے مقابلے میں سٹی کونسل کی رکن نتھیا رامن میدان میں ہیں،اکتوبر کے ایک برکلے انسٹی ٹیوٹ آف گورنمنٹل اسٹڈیز اور لاس اینجلس ٹائمز کے سروے کے مطابق، لاطینی ووٹروں میں رامن کو 24 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی، تاہم 34 فیصد ووٹرز نے ابھی فیصلہ نہیں کیا تھا،لاس اینجلس میں لاطینی ووٹر مجموعی ووٹروں کا تقریباً ایک تہائی ہیں
کیلیفورنیا کے 22ویں کانگریسی حلقے میں ری پبلکن رکن ڈیوڈ ویلاداؤ کو ڈیموکریٹ امیدوار اور سماجی کارکن رینڈی ویلیگاس کا سامنا ہے،حلقے کی نئی حدبندی کے بعد یہ مقابلہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ آیا ڈیموکریٹس کی انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی حکمت عملی انہیں فائدہ پہنچاتی ہے یا نہیں
کولوراڈو کے آٹھویں کانگریسی حلقے میں لاطینی ووٹر مجموعی انتخابی آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہیں،ری پبلکن رکن گیب ایونز کے مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار مینی روٹینیل مہنگائی اور ری پبلکنز کی امیگریشن پالیسیوں کو اپنی مہم کا اہم موضوع بنا رہے ہیں،مقامی سروے کے مطابق، کولوراڈو کے 56 فیصد لاطینی ووٹروں نے کانگریس میں ڈیموکریٹ موضوع بنا رہے ہیں،مقامی سروے کے مطابق، کولوراڈو کے 56 فیصد لاطینی ووٹروں نے کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کارکردگی کی منظوری دی، جبکہ 39 فیصد نے عدم منظوری ظاہر کی
فلوریڈا کے 27ویں کانگریسی حلقے میں ری پبلکن رکن ماریہ ایلویرا سالازار اپنی ہی جماعت کی امیگریشن پالیسیوں سے فاصلہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں،کیوبا نژاد امریکی سالازار نے ستمبر میں ایک سیاسی اشتہار جاری کیا تھا جس میں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کارروائیوں پر تنقید کی اور کہا کہ ان پالیسیوں نے ان کے حلقے کے لوگوں کو مایوس کیا ہے،ان کے ڈیموکریٹ حریف ایلیٹ روڈریگز بھی کیوبا نژاد امریکی ہیں،سروے کے مطابق، دونوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔
ٹیکساس میں لاطینی ووٹروں کا کردار خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے،2025 میں ٹرمپ کی حمایت پر ری پبلکنز نے کانگریسی حلقوں کی حدبندی تبدیل کی تھی تاکہ 2026 کے انتخابات میں اپنی جماعت کو فائدہ پہنچایا جا سکے،اس وقت ری پبلکنز نے 2024 کے انتخابات میں لاطینی ووٹروں کی حمایت میں اضافے کو مدنظر رکھا تھا، لیکن تازہ سروے اس حمایت میں کمی کی نشاندہی کر رہے ہیں
ٹیکساس کے 15ویں کانگریسی حلقے میں ڈیموکریٹ امیدوار بوبی پلیدو، جو گلوکار سے سیاست دان بنے ہیں، ری پبلکن امیدوار کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں سروے کے مطابق پلیدو کو سات پوائنٹس کی برتری حاصل تھی،اسی ریاست کے دیگر لاطینی آبادی والے حلقوں میں بھی ری پبلکن امیدواروں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے
ریاستی سطح پر سینیٹ انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو اور ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے درمیان مقابلہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے،اکتوبر کے ایک فاکس نیوز سروے میں لاطینی ووٹروں کے درمیان ٹالاریکو کو 30 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی،گورنر کے انتخاب میں بھی ری پبلکن گریگ ایبٹ کو ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا کی جانب سے سخت چیلنج درپیش ہے،اسی سروے کے مطابق، تقریباً 56 فیصد لاطینی ووٹروں نے ہینوجوسا کی حمایت کی
تجزیہ کاروں کے مطابق، لاطینی ووٹرز کی توجہ نسل یا شناخت کی سیاست سے زیادہ طبقاتی مسائل، روزگار، مہنگائی اور معاشی مواقع پر مرکوز ہو رہی ہے،ان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں ان ترجیحات کو نظرانداز کریں گی تو ووٹر اپنی حمایت تبدیل کر سکتے ہیں،تاہم، ڈیموکریٹس کے لیے بھی یہ ضروری ہوگا کہ وہ لاطینی ووٹروں کی حمایت کو مستقل سمجھنے کے بجائے ان کے مسائل پر عملی پیش رفت دکھائیں





