Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

غزہ میں موت کے سائے تلے پھنسے خاندان کی داستان، سابق اسکاٹش سربراہ حکومت حمزہ یوسف کی نئی کتاب

غزہ میں موت کے سائے تلے پھنسے خاندان کی داستان، سابق اسکاٹش سربراہ حکومت حمزہ یوسف کی نئی کتاب
اسرائیلی بمباری کے دوران سسرال والوں کی بے بسی، تباہ شدہ گھروں سے جان بچا کر آنے والے ہمسایوں کی پناہ اور خوراک کی قلت کا دل دہلا دینے والا احوال
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، اسکاٹ لینڈ کے سابق فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے اپنی کتاب ’’انڈر فائر‘‘ میں غزہ میں پھنسے اپنے سسرالی خاندان کی آزمائشوں اور ان لوگوں کی المناک کہانی بیان کی ہے جو جنگ سے زندہ بچ کر نہ نکل سکے
کتاب کے اقتباس کے مطابق، 2023 میں حماس کے اسرائیل پر مہلک حملے کے بعد اسرائیلی بمباری شروع ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد حمزہ یوسف کو اپنی ساس الزبتھ کا پیغام موصول ہوا،انہوں نے لکھا تھا، ’’حمزہ، مجھے لگتا ہے کہ ہم اب مرنے والے ہیں،مجھے وعدہ کرو کہ تم میری بیٹیوں کا خیال رکھو گے”
ڈنڈی سے تعلق رکھنے والی ریٹائرڈ نرس الزبتھ اپنے فلسطینی شوہر ماجد کے ساتھ غزہ میں رشتہ داروں سے ملنے گئی تھیں، لیکن بمباری شروع ہونے کے بعد وہ وہاں پھنس گئیں،ان کے اردگرد لوگ مارے جا رہے تھے، جبکہ ان کا گھر بھی ان دوستوں اور ہمسایوں سے بھر گیا تھا جن کے اپنے مکانات تباہ ہو چکے تھے،اس دوران خوراک کے ذخائر بھی ختم ہونے لگے
الزبتھ کے پیغام والی رات انہیں بتایا گیا کہ اسرائیلی حملوں کی نئی لہر سے پہلے وہ دیر البلح کے اپنے محلے سے نکل جائیں،بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ انخلا کی یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی تھی، لیکن اس وقت ان کے لیے خطرہ حقیقی تھا اور خاندان شدید خوف میں مبتلا تھا
حمزہ یوسف نے ان چار ہفتوں کو جہنم جیسے دنوں سے تعبیر کیا ہے،ان کی کتاب غزہ میں جنگ کے انسانی اثرات، خاندانوں کی بے یقینی اور ان لوگوں کی تکالیف کو سامنے لاتی ہے جو اچانک بمباری کے درمیان اپنی جان بچانے، اپنے پیاروں کی حفاظت کرنے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد میں پھنس گئے تھے

قومی خبریں سے مزید