امریکی دباؤ کے باعث ایران کی زمینی تجارتی گزرگاہیں بھی بند ہونے لگیں، عراق کے ساتھ پاکستان نے بھی سیکورٹی کی آڑ میں سرحدیں بند کرکے تجارت پر پابندی لگا دی
پاکستان اور عراق کی جانب سے سرحدی راستوں پر پابندیاں، امریکی بحری ناکہ بندی اور فضائی پابندیوں کے باعث تہران کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، پاکستان اور عراق نے ایران کے ساتھ بعض اہم زمینی تجارتی راستے بند کر دیے ہیں، جس سے ایران کی پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی اور فضائی کمپنیوں پر سخت پابندیوں کے باعث ایران کی بحری اور فضائی آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ زمینی راستوں کی بندش سے تجارت کے متبادل ذرائع مزید محدود ہو رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق، عراق نے بدھ کے روز شیب سرحدی گزرگاہ بند کر دی، جو دونوں ملکوں کے اہم تیل پیدا کرنے والے صوبوں کو ملاتی ہے،بغداد نے اس اقدام کی وجہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے نگرانی اور نفاذ کے اقدامات سخت کرنا بتائی
پاکستان نے بھی ہفتے کے اختتام پر گبد اور تفتان کی دو اہم سرحدی گزرگاہوں پر ایران سے آنے والے ٹرکوں کی آمد روک دی،پاکستانی حکام نے اس اقدام کے لیے سکیورٹی وجوہات بیان کیں،یہ دونوں راستے ایران کی مشرقی سمت میں واقع سب سے بڑی بندرگاہ تک رسائی کے متبادل زمینی راستوں کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام پر رعایتیں حاصل کرنے کے لیے فوجی دباؤ بڑھا رہے ہیں،مشرق وسطیٰ کے ثالث مذاکرات بحال کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن سفارتی عمل کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے،ایران نے جوہری معاملے پر بات چیت سے متعلق امریکی مطالبات قبول نہیں کیے،
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، زمینی تجارتی راستوں پر پابندیوں سے ایران کی علاقائی تجارت اور معاشی نقل و حرکت مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ بحری، فضائی اور زمینی ذرائع پر بیک وقت دباؤ تہران کے لیے متبادل تجارتی راستے تلاش کرنا مشکل بنا سکتا ہے





