Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سندھ میں سرکاری ملازمتوں کے امتحان میں بڑی تبدیلی، کامیابی کے لیے 40 کے بجائے 33 فیصد نمبر، عمر کی حد 33 سال مقرر

سندھ میں سرکاری ملازمتوں کے امتحان میں بڑی تبدیلی، کامیابی کے لیے 40 کے بجائے 33 فیصد نمبر، عمر کی حد 33 سال مقرر

پاکستان کے صوبہ سندھ کی کابینہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کے مقابلے کے امتحان میں امیدواروں کے لیے اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے نئے فیصلے کے تحت مشترکہ مقابلے کے امتحان (سی سی ای) کے اسکریننگ ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے کم از کم نمبر 40 فیصد سے کم کرکے 33 فیصد کردیے گئے ہیں، جبکہ امتحان میں شرکت کے لیے عمر کی بالائی حد 30 سال سے بڑھا کر 33 سال کردی گئی ہے اس کے علاوہ امیدواروں کو امتحان میں شرکت کے 3 کے بجائے 5 مواقع مل سکیں گے
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں یہ فیصلے سرکاری بھرتیوں کے طریقہ کار اور امتحانی انتظامات پر امیدواروں کے تحفظات اور احتجاج کے بعد کیے گئے حکومت کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد زیادہ امیدواروں کو مقابلے کے امتحان میں شرکت کا موقع دینا اور بھرتیوں کے نظام پر اعتماد بحال کرنا ہے
کامیابی کے کم از کم نمبروں میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ اب اسکریننگ ٹیسٹ میں 33 فیصد نمبر حاصل کرنے والے امیدوار بھی اگلے مرحلے کے لیے اہل ہوسکیں گے، بشرطیکہ وہ امتحان کے دیگر مقررہ تقاضے پورے کرتے ہوں اس تبدیلی سے ان امیدواروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو پہلے 40 فیصد کی حد پوری نہ کرنے کے باعث تحریری امتحان تک نہیں پہنچ پاتے تھے تاہم، اس کا مطلب سرکاری ملازمت میں براہ راست تقرری نہیں ہوگا، کیونکہ امیدواروں کو امتحان کے اگلے مراحل اور میرٹ کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے
عمر کی بالائی حد میں 3 سال اضافے سے ان افراد کو بھی مقابلے کے امتحان میں شرکت کا موقع مل سکتا ہے جو پہلے 30 سال کی عمر کی حد عبور کرچکے تھے، لیکن اب 33 سال تک کی عمر کے اہل امیدوار درخواست دے سکیں گے اسی طرح امتحان میں شرکت کے مواقع 3 سے بڑھا کر 5 کرنے سے امیدواروں کو اپنی تیاری بہتر بنانے اور دوبارہ کوشش کرنے کے مزید مواقع ملیں گے ان تبدیلیوں سے خصوصاً ان امیدواروں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جو کئی سال سے سرکاری ملازمت کے لیے تیاری کررہے ہیں
کابینہ نے امتحانی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی منظوری دی ہے ایک پرچے پر مشتمل امتحانات کے لیے کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹنگ متعارف کرائی جائے گی اور امتحان ختم ہوتے ہی نتائج پرنٹ کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق اس طریقہ کار سے نتائج کے انتظار میں کمی، جانچ کے عمل میں بہتری اور امتحانی انتظامات میں شفافیت لانے میں مدد مل سکتی ہے
انٹرویو کے نمبروں میں بھی وفاقی پبلک سروس کمیشن کے طریقہ کار کے مطابق نظرثانی کی جائے گی اس کے ساتھ ایک اصلاحاتی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے، جو اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے سندھ پبلک سروس کمیشن کے نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات تجویز کرے گی احتجاج میں حصہ لینے والے امیدواروں کے خلاف انتقامی کارروائی روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات اور انٹرویو کے دوران امیدواروں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی شکایات کا جائزہ لینے کا طریقہ کار بھی اصلاحاتی پیکیج میں شامل ہے
سندھ پبلک سروس کمیشن میں اصلاحات کا یہ پیکیج ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب سرکاری ملازمتوں کے لیے مقابلے کے امتحانات کے طریقہ کار، نتائج اور امیدواروں کے ساتھ برتاؤ پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے نوجوان طویل عرصے تک تیاری کرتے ہیں اور ان پر وقت اور رقم خرچ کرتے ہیں ایسے میں امتحانات کے قواعد میں تبدیلی، نتائج کی بروقت فراہمی اور انٹرویو کے عمل کی شفافیت امیدواروں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے
تاہم، اصل امتحان ان اصلاحات پر عمل درآمد ہوگا صرف کامیابی کے لیے درکار نمبروں میں کمی یا عمر کی حد بڑھانے سے بھرتیوں کا نظام شفاف نہیں ہوسکتا، جب تک امتحانی پرچوں، نتائج، انٹرویوز اور حتمی میرٹ کے بارے میں واضح قواعد پر یکساں عمل نہ کیا جائے امیدواروں کی شکایات کے آزادانہ جائزے اور ان کے خلاف ممکنہ انتقامی کارروائی روکنے کے لیے مؤثر نظام بھی ضروری ہوگا
کابینہ نے اسی اجلاس میں سندھ میں جائیداد ٹیکس کی وصولی بڑھانے کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے ایک پروگرام کی بھی منظوری دی اس منصوبے کے تحت کراچی کی 25 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز میں جائیداد ٹیکس کی سالانہ وصولی 2.3 ارب روپے سے بڑھا کر 25.5 ارب روپے تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے پروگرام کے لیے عالمی بینک کی جانب سے 150 ملین ڈالر کی مالی معاونت شامل ہے حکومت کا مقصد ٹیکس وصولی کو جدید بنانا اور بلدیاتی اداروں کی مالی صلاحیت بہتر کرنا ہے
اس کے علاوہ کابینہ نے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ گھروں کی دوبارہ تعمیر کے تیسرے مرحلے کے لیے یورپی سرمایہ کاری بینک کے 115 ملین یورو کے مالی پیکیج کی منظوری دی، جس میں 100 ملین یورو قرض اور 15 ملین یورو گرانٹ شامل ہیں سجاول کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال کا انتظام 5 سال کے لیے میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے اور ٹھٹھہ کے ضلعی اسپتال سمیت 7 دیگر طبی مراکز کے انتظام میں اسی ادارے کی مدت بڑھانے کی بھی منظوری دی گئی
مجموعی طور پر سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں یہ تبدیلیاں امیدواروں کے لیے مواقع بڑھانے کی کوشش ہیں اب اہم بات یہ ہوگی کہ نئے قواعد کب اور کس طرح نافذ کیے جاتے ہیں، پہلے سے امتحانات میں شریک امیدواروں پر ان کا اطلاق کیسے ہوگا اور شفاف بھرتیوں کے لیے شکایات کے ازالے کا نظام کس حد تک مؤثر ثابت ہوتا ہے امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ امتحان کے سرکاری اشتہار اور سندھ پبلک سروس کمیشن کی تازہ ہدایات سے اپنی اہلیت اور نئے قواعد کی تصدیق کریں

قومی خبریں سے مزید