Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں امریکی ویزے کے نام پر فراڈ کا ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک، پولیس کا دعویٰ

لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں امریکی ویزے کے نام پر فراڈ کا ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک، پولیس کا دعویٰ

اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے مقدمے میں مبینہ طور پر امریکی ویزے کے نام پر دھوکا دہی کرنے والا مرکزی ملزم پولیس کے مطابق اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو تفتیش اور رقم کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں موٹر سائیکلوں پر سوار 4 افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعہ تھانہ رمنا کی حدود میں پیش آیا پولیس ٹیم ملزم کے بیان اور نشاندہی پر تفتیشی کارروائی کے لیے اسے لے جا رہی تھی کہ 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مبینہ ساتھیوں نے اسے چھڑانے کی کوشش میں اندھا دھند فائرنگ شروع کردی پولیس کے مطابق فائرنگ کے دوران ملزم اپنے ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہوگیا، جبکہ پولیس اہلکار بلٹ پروف جیکٹس اور حفاظتی اقدامات کی وجہ سے محفوظ رہے
پولیس ترجمان نے بتایا کہ زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا پولیس نے واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کرنے کا بھی بتایا ہے
ملزم کا نام لائبہ اعجاز کی خودکشی کے مقدمے میں سامنے آیا تھا پولیس کے مطابق اس معاملے میں امریکی ویزا دلوانے کے نام پر مبینہ دھوکا دہی کی گئی تھی حکام نے بتایا کہ ملزم کے بھائی اور کزن پہلے ہی جیل میں ہیں، جبکہ مانسہرہ کے سٹی پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف 85 لاکھ روپے کے فراڈ کے مقدمات بھی درج تھے ہلاک ہونے والا ملزم ان مقدمات میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا
تاہم پولیس ابھی تک یہ تفصیل سامنے نہیں لاسکی کہ ہلاک ہونے والے ملزم سے مبینہ فراڈ کی کتنی رقم برآمد ہوئی تھی یا رقم کی واپسی کے لیے کیا پیش رفت ہوئی اس معاملے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ لائبہ اعجاز کو امریکی ویزے کے نام پر مبینہ دھوکا دہی کا سامنا کیسے کرنا پڑا، اس میں کتنے افراد ملوث تھے اور متاثرہ فریق کو مالی نقصان کی تلافی کیسے ملے گی
ملزم کی ہلاکت کے بعد مقدمے کی تفتیش اور دیگر مبینہ ساتھیوں کی گرفتاری اہم مرحلہ بن گئی ہے پولیس کے بیان کے مطابق مزید افراد کی تلاش جاری ہے، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات اور مبینہ فراڈ میں ملوث تمام افراد کی ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا

قومی خبریں سے مزید