Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی سینیٹ کے انتخاب سے پہلے عبدالسید کے اخوان المسلمون سے مبینہ روابط پر تنازعہ، سی بی ایس نیوز میں بھی اختلافات سامنے آگئے

امریکی سینیٹ کے انتخاب سے پہلے عبدالسید کے اخوان المسلمون سے مبینہ روابط پر تنازعہ، سی بی ایس نیوز میں بھی اختلافات سامنے آگئے
امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسید کے مبینہ طور پر اخوان المسلمون سے ہمدردانہ تعلقات کے معاملے نے امریکی میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے،نیویارک پوسٹ کے ایک تجزیے کے مطابق سی بی ایس نیوز کی ایڈیٹر ان چیف باری وائس چاہتی ہیں کہ ادارے کے صحافی عبدالسید کے ماضی کے بیانات اور ان سے متعلق دعوؤں کی تحقیقات کریں، تاہم اس مؤقف پر نیوز روم کے بعض ملازمین میں ناراضگی پائی جاتی ہے
نیویارک پوسٹ کے تجزیہ نگار آئزک شور نے دعویٰ کیا ہے کہ سی بی ایس نیوز کے اندر یہ اختلاف محض ایک امیدوار کی کوریج کا معاملہ نہیں بلکہ ادارے میں صحافتی ترجیحات اور ایڈیٹوریل قیادت کے درمیان کشمکش کی عکاسی کرتا ہے،ان کے مطابق باری وائس اپنے ساتھیوں پر زور دے رہی ہیں کہ وہ عبدالسید کے بارے میں سامنے آنے والے سوالات کی تحقیقات کریں، جبکہ بعض صحافی اس طرز عمل پر اعتراض کر رہے ہیں
تجزیے میں سیمافور کے صحافی میکس ٹینی کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ باری وائس نے سی بی ایس نیوز کے صحافیوں کو عبدالسید کی اخوان المسلمون سے مبینہ ہمدردی سے متعلق مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کرنے کی ترغیب دی،رپورٹ میں اس معاملے کے ایک حصے کے طور پر عبدالسید کی کم عمر سوتیلی بہن کے برسوں پرانے ایک سوشل میڈیا پیغام کا بھی ذکر کیا گیا
میکس ٹینی نے اس کوریج کے ممکنہ انتخابی اثرات پر سوال اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی کہ امریکی سینیٹ کا کنٹرول اس بات سے بھی متاثر ہو سکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ اس نوعیت کے معاملات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں،تاہم یہ ان کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تجزیاتی نکتہ ہے، اس بات کا ثبوت نہیں کہ کسی مخصوص خبر سے انتخابی نتیجہ لازماً تبدیل ہوگا
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا اداروں میں ایڈیٹوریل آزادی، خبر کے انتخاب اور سیاسی طور پر حساس معاملات کی رپورٹنگ پر بحث جاری ہے،باری وائس کے ناقدین کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا کسی امیدوار کے برسوں پرانے بیانات یا اس کے اہل خانہ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو نمایاں کرنا عوامی مفاد میں ہے یا اس سے انتخابی مہم کو غیر متناسب اہمیت مل سکتی ہے،دوسری جانب، اس نوعیت کی تحقیقات کے حامی مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ سیاسی امیدواروں کے نظریات، روابط اور عوامی بیانات کی جانچ صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہے
عبدالسید کے خلاف اخوان المسلمون سے ہمدردی کے دعوؤں کی نوعیت اور ان کے ثبوتوں کا جائزہ لیے بغیر انہیں ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا،اصل صحافتی سوال یہ ہے کہ سی بی ایس نیوز ان دعوؤں کی جانچ کس معیار پر کرتا ہے، متعلقہ شواہد کو کس طرح پرکھتا ہے اور امیدوار کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا کتنا موقع دیتا ہے
نیویارک پوسٹ کا یہ تجزیہ سی بی ایس نیوز کے اندرونی اختلافات کو باری وائس کی ادارتی قیادت اور صحافیوں کے درمیان وسیع تر کشمکش کے تناظر میں پیش کرتا ہے،تاہم یہ ایک رائے پر مبنی تحریر ہے، اور اس میں بیان کردہ تنقیدی مؤقف کو تمام سی بی ایس صحافیوں کی نمائندگی یا عبدالسید کے خلاف الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے

قومی خبریں سے مزید