Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سپریم کورٹ کے فیصلے جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں، جسٹس ایلینا کیگن کی قدامت پسند اکثریت پر کڑی تنقید

سپریم کورٹ کے فیصلے جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں، جسٹس ایلینا کیگن کی قدامت پسند اکثریت پر کڑی تنقید

امریکی سپریم کورٹ کی لبرل جسٹس ایلینا کیگن نے عدالت کے قدامت پسند ججوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے انتخابی قوانین سے متعلق فیصلوں نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے اور کانگریس کے انتخابی حلقوں کی حدبندی میں سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک ایسی دوڑ شروع کر دی ہے جس میں جمہوری اصولوں کی پامالی بڑھ رہی ہے
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کیگن نے منگل کو کیتھولک یونیورسٹی کے قانون کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی قدامت پسند اکثریت نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے انتخابی مفادات کے لیے حلقوں کی حدبندی کرنے کے عمل کو روکنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کیا،اس کے نتیجے میں سیاسی تقسیم اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے
جسٹس کیگن کے مطابق دونوں بڑی سیاسی جماعتیں انتخابی حلقوں کی حدبندی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں،اس عمل کے ذریعے حلقوں کی جغرافیائی حدود اس انداز میں تبدیل کی جاتی ہیں کہ کسی مخصوص جماعت کے امیدواروں کو انتخابی فائدہ حاصل ہو،کیگن نے کہا کہ اس طرز عمل سے بڑی تعداد میں شہری ووٹ کے مساوی حق سے محروم ہو رہے ہیں
انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی بنیادوں پر حلقہ بندی امیدواروں کو انتہا پسندانہ مؤقف کی طرف دھکیل رہی ہے، کیونکہ اب انہیں عام انتخابات میں تمام ووٹروں کو قائل کرنے کے بجائے اپنی جماعت کے اندر پرائمری انتخابات میں مخالف امیدواروں سے مقابلے کی زیادہ فکر رہتی ہے
کیگن نے کہا کہ امریکہ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ سیاسی تقسیم کا شکار ہے اور انتخابی حلقوں کی جانبدارانہ حدبندی اس تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے
جسٹس کیگن کے یہ ریمارکس امریکی انتخابی نظام میں سیاسی جماعتوں کے اثرورسوخ، ووٹروں کی مساوی نمائندگی اور سپریم کورٹ کے کردار پر جاری بحث کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید