اسلام آباد میں چینی شہریوں کے گھر ڈکیتی، پولیس کے 4 اہلکار گرفتار، 20 لاکھ روپے لوٹنے کا الزام
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں چینی شہریوں کے گھر ڈکیتی کے ایک اور واقعے میں پولیس کے 4 اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پولیس کی وردیاں پہن کر اپنے ساتھی کے ساتھ سیکٹر ایف 7/1 میں واقع گھر پر دھاوا بولا، چینی شہریوں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا اور 20 لاکھ روپے نقدی کے علاوہ 15 ہزار روپے مالیت کا موبائل فون لوٹ لیا
یہ واقعہ اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ 29 اگست کے بعد اسلام آباد میں چینی شہریوں کے گھروں میں ڈکیتی کی یہ چوتھی واردات ہے ان میں سے 3 واقعات میں ملزمان نے سرکاری اہلکاروں کا روپ دھارا، جبکہ 2 مقدمات کی تفتیش کے دوران اسلام آباد پولیس کے حاضر سروس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے
ایف آئی آر کے مطابق، واردات کے وقت گھر میں 2 چینی شہری رہائش پذیر تھے واقعہ رات تقریباً 2 بج کر 20 منٹ پر پیش آیا، جب پولیس کی وردی پہنے ایک شخص گھر کے احاطے میں داخل ہوا اور ملازمین کے لیے مختص رہائشی حصے میں پہنچ گیا وہاں اس نے دن کی ڈیوٹی پر تعینات سکیورٹی گارڈ اور ایک ڈرائیور کو جگایا، جو اس وقت سو رہے تھے، اور انہیں اپنے ساتھ باہر لے گیا
اس شخص نے دونوں کو ایک سیاہ ٹویوٹا کرولا گاڑی تک پہنچایا، جس پر پولیس کی بتی نصب تھی گاڑی میں 4 افراد موجود تھے، جن میں سے 3 پولیس کی وردیوں میں ملبوس تھے اور تمام مسلح تھے اس کے بعد ملزمان گارڈ اور ڈرائیور کو گاڑی سمیت واپس گھر کے اندر لے گئے
ملزمان نے کھڑکی کے راستے گھر میں داخل ہو کر دونوں چینی شہریوں کو اسلحے کے زور پر قابو کر لیا انہوں نے چینی شہریوں اور گھر کے 2 ملازمین کو ڈرائنگ روم میں یرغمال بنایا اور وہاں سے 20 لاکھ روپے نقدی لوٹ لی ملزمان ایک موبائل فون بھی لے گئے، جس کی مالیت 15 ہزار روپے بتائی گئی ہے
واقعے کے دوران ایک سکیورٹی گارڈ کو شبہ ہوا کہ دوسرے گارڈ نے ڈاکوؤں کے ساتھ ملی بھگت کی تھی اور اسی نے انہیں گھر میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کیا تھا پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کی اور گھر میں نصب نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ کی مدد سے مشتبہ افراد کی شناخت کی۔ بعد ازاں پولیس کے 4 اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 395 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو ڈکیتی سے متعلق ہے
یہ معاملہ اسلام آباد میں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والی وارداتوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا حصہ ہے اس سے قبل 13 ستمبر کو سیکٹر جی 10/4 میں 2 چینی شہریوں کے گھر پر بھی پولیس کی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے دھاوا بولا تھا اس واقعے میں ملزمان تقریباً 80 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہو گئے تھے
اس مقدمے کی تفتیش کے دوران ستمبر میں اسلام آباد پولیس کے 3 حاضر سروس اہلکاروں کے ایک ڈکیت گروہ چلانے میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا پولیس نے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا تفتیش کاروں کے مطابق، اس گروہ کو چینی شہریوں کے گھر میں موجود نقدی کے بارے میں پہلے سے اطلاع ملی تھی، تاہم اطلاع فراہم کرنے والے شخص کی شناخت کے بارے میں اس وقت تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں
اس سے بھی اہم بات یہ سامنے آئی تھی کہ چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے قائم اسلام آباد پولیس کے خصوصی حفاظتی یونٹ کو متعلقہ گھر پر تعینات نہیں کیا گیا تھا چینی شہریوں نے اس کے بجائے ایک نجی کمپنی سے سکیورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں اس انتظامی کوتاہی نے غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے تھے
پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ مختلف ترقیاتی، تجارتی اور اقتصادی منصوبوں میں کام کرتے ہیں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والے واقعات نہ صرف ان کی ذاتی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور دونوں ملکوں کے اقتصادی تعاون پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں
اس تازہ واقعے میں پولیس اہلکاروں پر لگنے والے الزامات نے ادارے کے اندر نگرانی، احتساب اور حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے تاہم، گرفتار افراد کے خلاف الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا ضروری ہوگا تفتیش کے دوران یہ معلوم کرنا بھی اہم ہے کہ آیا ملزمان کو گھر میں موجود رقم کے بارے میں اندرونی ذرائع سے معلومات فراہم کی گئی تھیں، حفاظتی انتظامات میں کہاں کوتاہی ہوئی اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں
شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض اہلکار ہی وردی اور سرکاری اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جرائم میں ملوث پائے جائیں تو اس سے عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ مقدمے کی شفاف تفتیش کی جائے، ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو اور چینی شہریوں سمیت تمام شہریوں کی حفاظت کے انتظامات کا مؤثر جائزہ لیا جائے






