Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد نیا انتظامی ڈھانچہ، وفاقی کنٹرول بڑھنے اور صوبوں کی تقسیم کے خدشات

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد نیا انتظامی ڈھانچہ، وفاقی کنٹرول بڑھنے اور صوبوں کی تقسیم کے خدشات

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی ڈھانچے میں تیزی سے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں سابق قبائلی علاقوں اور صوبے کے جنوبی اضلاع میں ترقیاتی کاموں اور امن و امان کے معاملات چلانے کے لیے نیا علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے صوبے کے معاملات کی نگرانی کے لیے اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے ان اقدامات نے صوبائی خودمختاری، اختیارات کی تقسیم اور مستقبل میں دوسرے صوبوں میں بھی ایسے انتظامی تجربات کیے جانے کے امکانات سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں
نئے انتظامی منصوبے کے تحت سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے ساتھ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت متاثرہ علاقوں میں خصوصی انتظامی بندوبست کیا جا رہا ہے ان علاقوں کے لیے علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے، جس کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری یحییٰ اخوندزادہ کو سونپے جانے کی اطلاعات ہیں اطلاعات کے مطابق انہیں وسیع اختیارات دیے جا رہے ہیں، جو صوبائی حکومت یا کابینہ کے اختیارات سے مشابہ ہو سکتے ہیں
نئے سیکریٹریٹ کی معاونت کے لیے ہر ضلع سے 4 افراد پر مشتمل کونسل بھی تشکیل دی جا رہی ہے، جس میں پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کو بھی شامل کیا گیا ہے اس طرح ان علاقوں کے ترقیاتی اور انتظامی معاملات کے لیے ایک الگ نظام وجود میں آ رہا ہے
وفاقی سطح پر اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی صوبے کے معاملات کی نگرانی کرے گی اس میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کے علاوہ خیبر پختونخوا سے عامر مقام اور کراچی سے خالد مقبول صدیقی بھی شامل ہیں اس بندوبست سے وفاقی حکومت کا صوبے کے انتظامی معاملات میں کردار مزید بڑھنے کا امکان ہے
اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے مقاصد صرف دہشت گردی پر قابو پانے اور انتظامی مسائل حل کرنے تک محدود رہیں گے یا مستقبل میں اسے مزید وسیع کیا جا سکتا ہے اسلام آباد میں ایسی اطلاعات اور قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں کہ اگر یہ انتظامی تجربہ کامیاب رہا تو دوسرے صوبوں میں بھی ماہرین اور سرکاری افسران پر مشتمل اسی نوعیت کے انتظامی ڈھانچے متعارف کرائے جا سکتے ہیں تاہم، دوسرے صوبوں میں ایسا نظام نافذ کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا
اس منصوبے کے حوالے سے جنوبی خیبر پختونخوا کو الگ صوبے کی شکل دینے کا امکان بھی زیر بحث آیا ہے سابق قبائلی علاقوں اور جنوبی اضلاع کو ایک الگ انتظامی اکائی کے طور پر منظم کرنے سے مستقبل میں جنوبی خیبر پختونخوا نامی صوبے کے قیام کی بحث کو تقویت مل سکتی ہے، لیکن فی الحال اسے ایک امکان یا قیاس آرائی سے زیادہ نہیں سمجھنا چاہیے
نئے نظام کے سامنے سب سے بڑا سوال اختیارات کی واضح تقسیم کا ہے صوبے میں گورنر موجود ہیں، جبکہ جنوبی علاقوں کے لیے الگ ترقیاتی سیکریٹریٹ بھی بنایا جا رہا ہے یہ ابھی پوری طرح واضح نہیں کہ سیکریٹریٹ گورنر کو جواب دہ ہوگا یا براہ راست وفاقی حکومت کو۔ اسی طرح یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ اس کا پشاور میں موجود صوبائی انتظامیہ اور سرکاری محکموں کے ساتھ تعلق کس نوعیت کا ہوگا
اطلاعات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں، مالی معاملات، منصوبہ بندی اور امن و امان کے لیے نئے سیکریٹریٹ میں الگ افسران تعینات کیے جا سکتے ہیں لیکن تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی عوامی خدمات کے معاملات میں صوبائی حکومت کا کردار کس طرح برقرار رکھا جائے گا، یہ ایک اہم سوال ہے اگر ہر محکمے کے لیے الگ طریقہ کار طے کرنا پڑا تو انتظامی پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں اور فیصلوں میں تاخیر کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے
یہ بھی واضح نہیں کہ ان 12 اضلاع کے مسائل براہ راست وزیراعظم شہباز شریف کے پاس جائیں گے، گورنر کے ذریعے وفاق تک پہنچیں گے یا اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی ان پر فیصلے کرے گی وزیراعظم کے لیے ہر ضلع کے ہر معاملے کی خود نگرانی کرنا عملی طور پر مشکل ہوگا اگر زیادہ تر فیصلے کمیٹیوں کے ذریعے کیے گئے تو ان کی کارکردگی اور فیصلہ سازی کی رفتار بھی اہم ہوگی
اس نظام کے حامیوں کے لیے بنیادی دلیل یہ ہو سکتی ہے کہ براہ راست وفاقی نگرانی سے ترقیاتی منصوبوں اور سکیورٹی سے متعلق فیصلے تیزی سے کیے جا سکیں گے تاہم، محض انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنے سے مسائل حل ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔ اس کے لیے واضح اختیارات، مالی وسائل، مقامی ضروریات کی سمجھ اور جواب دہی کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے
ایک اور تشویش یہ ہے کہ اگر فیصلے پشاور کے بجائے اسلام آباد میں زیادہ ہونے لگے تو مقامی آبادی کے لیے اپنے مسائل حل کرانا مزید مشکل ہو سکتا ہے جنوبی اضلاع کے شہریوں کو پہلے ہی روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور امن و امان جیسے مسائل کا سامنا ہے ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انتظامی فیصلے ان کے قریب ہوں، نہ کہ انہیں ہر معاملے کے لیے دور دراز وفاقی دفاتر سے رجوع کرنا پڑے
پاکستان میں ماضی کے تجربات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش نئی بات نہیں اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو متعدد شعبوں میں زیادہ اختیارات دیے گئے تھے اس لیے کسی بھی نئے انتظامی بندوبست کو اس آئینی تقسیم اور صوبائی خودمختاری کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہوگا۔ اگر نئے نظام کے ذریعے اختیارات دوبارہ مرکز میں جمع ہونے لگے تو وفاقی نظام اور مقامی حکومتوں کے کردار پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے
خیبر پختونخوا میں اس انتظامی تجربے کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا اس سے دہشت گردی میں کمی آتی ہے، ترقیاتی منصوبے مکمل ہوتے ہیں، تعلیم اور صحت کی سہولتیں بہتر ہوتی ہیں اور شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر کم لگانے پڑتے ہیں یا نہیں اگر ان مقاصد میں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو محض نئے عہدے، کمیٹیاں اور سیکریٹریٹ عوامی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوں گے
اس وقت سب سے اہم ضرورت نئے نظام کے اختیارات، جواب دہی اور صوبائی حکومت کے ساتھ تعلق کو واضح کرنے کی ہے اگر یہ بندوبست مؤثر ثابت ہوا تو حکومت اسے کامیاب تجربہ قرار دے سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں انتظامی بہتری کے نام پر اختیارات کی مرکزیت تو نہیں بڑھ رہی

قومی خبریں سے مزید