ٹرمپ کی پاکستان سے قربت کے پیچھے امریکی مفادات، مستقل اسٹریٹجک شراکت داری تاحال غیر واضح
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی قیادت کی تعریفوں اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے باوجود، پاکستان اور امریکہ کے درمیان مستقل اسٹریٹجک شراکت داری کے واضح آثار دکھائی نہیں دیتے۔ پاکستان کے سابق سفیر توقیر حسین کے مطابق، ٹرمپ کے دور میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری ضرور آئی ہے، لیکن انہیں ابھی حقیقی معنوں میں مضبوط اور دیرپا شراکت داری کا درجہ نہیں ملا
پاکستان کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن کی جانب سے بڑھتی ہوئی قربت پاکستان کی اہمیت کا اعتراف ہے یا امریکی صدر کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی اور علاقائی مفادات کا نتیجہ؟ اس تعلق کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کو امریکی بیانات کے بجائے عملی اقدامات اور طویل مدتی مفادات کو سامنے رکھنا ہوگا
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور سے مختلف ہے وہ چین کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی، روس کے ساتھ معاملات میں نئی گنجائش پیدا کرنے اور روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو امریکی مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی پالیسی میں تجارتی محصولات کو صرف معاشی دباؤ کے بجائے سیاسی اور جغرافیائی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے اسی طرح فوجی طاقت اور یک طرفہ فیصلوں کو بھی نمایاں اہمیت حاصل ہے
پاکستان کو اس بدلتی ہوئی امریکی پالیسی سے فائدہ پہنچا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا سفارتی کردار نمایاں ہوا ہے اور واشنگٹن میں بھی اس کی اہمیت کو زیادہ توجہ مل رہی ہے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، جو اسے جنوبی ایشیا، ایران، عرب ممالک، وسطی ایشیا، روس اور چین کے درمیان ایک اہم ملک بناتی ہے، امریکی پالیسی سازوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے اس کے علاوہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور خطے کے استحکام میں اس کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ایف 16 لڑاکا طیاروں کی مرمت، بہتری اور انہیں آپریشنل حالت میں برقرار رکھنے کے لیے 686 ملین ڈالر کے پیکیج کی منظوری دی ہے اس کے علاوہ نارتھروپ گرومن کمپنی کو 488 ملین ڈالر کا ایک فوجی فروخت کا معاہدہ دیا گیا ہے، جس میں اے پی جی 66 اور اے پی جی 68 ریڈار نظاموں کی انجینئرنگ اور تکنیکی معاونت شامل ہے یہ معاہدہ 21 ممالک کے لیے ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے تاہم، ان اقدامات کو پاکستان کے ساتھ کسی جامع دفاعی اتحاد کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا
دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے امکانات بھی سامنے آ رہے ہیں توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کرپٹو کرنسی، زراعت، قابل تجدید توانائی اور اہم معدنیات ایسے شعبے ہیں جہاں پاکستان امریکی سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے امریکہ پاکستانی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی بھی ہے، اس لیے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات پاکستان کی معیشت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں
سلامتی کے معاملات میں بھی امریکہ کو پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے سرحدوں سے باہر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی، علاقائی سلامتی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کو روکنے جیسے معاملات دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات میں شامل ہیں ماضی میں بھی پاکستان نے امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون کیا ہے، تاہم اس تعاون کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ یکساں نہیں رہے اور مختلف ادوار میں بداعتمادی پیدا ہوتی رہی ہے
اس کے باوجود تعلقات کی اصل نوعیت کے بارے میں سوالات موجود ہیں پاکستان کی اہمیت تسلیم کیے جانے کے باوجود امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے پاکستان کے دوروں اور اعلیٰ سطح کے مستقل سفارتی رابطوں کی کمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ واشنگٹن ابھی اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مکمل اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی چین کے بارے میں سخت پالیسی اور بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات بھی پاکستان کے لیے ایک اہم چیلنج ہیں امریکہ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور فوجی اثرورسوخ کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے چونکہ پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی اقتصادی اور دفاعی تعلقات ہیں، اس لیے واشنگٹن کی چین مخالف پالیسی بالواسطہ طور پر پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے
امریکہ ایک طرف پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف خطے میں بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی اہمیت دیتا ہے یہی دوہرا طرزعمل پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی میں توازن قائم رکھنے کی ضرورت کو مزید بڑھاتا ہے پاکستان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ امریکہ کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعاون سے فائدہ اٹھائے، لیکن اپنے تمام اہم فیصلوں کو کسی ایک عالمی طاقت کی ترجیحات سے وابستہ نہ کرے
ماضی کا تجربہ بھی اس حوالے سے اہم ہے سرد جنگ کے دوران پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی رہا، لیکن افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں نمایاں سردمہری پیدا ہوئی بعد ازاں نائن الیون کے حملوں کے بعد پاکستان دوبارہ امریکی پالیسی میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا، مگر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک بار پھر ترجیحات کا فرق سامنے آیا یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ مشترکہ مفادات کے باوجود امریکہ کے ساتھ قربت ہمیشہ مستقل ضمانت فراہم نہیں کرتی
ٹرمپ کی موجودہ پالیسی بھی بڑی حد تک ان کے سیاسی مقاصد، امریکی معیشت کے تحفظ اور عالمی طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کی کوششوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے پاکستان کو یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ موجودہ گرمجوشی لازماً آنے والے برسوں میں بھی برقرار رہے گی ٹرمپ کے بعد امریکی انتظامیہ کی ترجیحات بدل سکتی ہیں، تاہم پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صلاحیت اور علاقائی سلامتی میں اس کا کردار امریکہ کے لیے اہم رہنے کا امکان رکھتا ہے
پاکستان کے لیے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں، لیکن انہیں ملک کی خارجہ پالیسی کا واحد سہارا نہیں بننا چاہیے اسلام آباد کو چین، خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بھی متوازن تعلقات قائم رکھنے چاہییں اسی کے ساتھ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے، برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور داخلی استحکام پر توجہ دینا ضروری ہے
پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا معیار صرف امریکی صدر کی تعریفیں یا اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ان تعلقات سے ملک کو کتنے پائیدار معاشی، دفاعی اور سفارتی فوائد حاصل ہوتے ہیں امریکہ کے ساتھ تعاون برقرار رکھتے ہوئے اپنی آزادانہ فیصلہ سازی اور قومی مفادات کا تحفظ پاکستان کی بنیادی ترجیح رہنی چاہیے






