Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فرانس میں ہنگامے اور لوٹ مار، پیرس سمیت متعدد شہروں میں رات کا کرفیو نافذ، پولیس نے کئی علاقوں میں کنٹرول کھونے کا اعتراف کر لیا

فرانس میں ہنگامے اور لوٹ مار، پیرس سمیت متعدد شہروں میں رات کا کرفیو نافذ، پولیس نے کئی علاقوں میں کنٹرول کھونے کا اعتراف کر لیا

فرانس میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہنگاموں اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد حکام نے پیرس سمیت ملک کے متعدد شہروں میں رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کر دیا ہے،دارالحکومت پیرس کے مرکزی علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ دیگر شہروں میں نوجوانوں کی آمدورفت اور عوامی اجتماعات کو محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پیرس پولیس نے اعلان کیا ہے کہ پلیس دے لا ریپوبلیک اور معروف تجارتی علاقے لے آل میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا،ان علاقوں میں ہفتے کے اختتام پر مظاہرین جمع ہوئے تھے،شہر کے مرکز کے کئی دیگر حصوں میں غیر مجاز اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے
مارسی، بوردو، نیس اور لیون سمیت جنوبی فرانس کے مختلف شہروں جبکہ شمالی فرانس کے شہر لِیل اور دیگر قصبوں میں بھی جزوی کرفیو اور اجتماعات پر پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے،مختلف شہروں میں پابندیوں کی نوعیت الگ الگ ہے اور بعض مقامات پر خاص طور پر نوجوانوں کی نقل و حرکت محدود کی گئی ہے
فرانس میں بدامنی کے معاملے پر وزیر داخلہ لوراں نونیز کو اپوزیشن سیاست دانوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ حکام ہنگاموں سے نمٹنے کے لیے مناسب تیاری کرنے میں ناکام رہے،نونیز نے بعض شہروں میں پولیس کے حالات پر قابو کھو دینے کا اعتراف کیا ہے،صدر ایمانوئل میکرون نے وزیر داخلہ کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے
احتجاجی تحریک کا آغاز گزشتہ ماہ طلبہ کی جانب سے اسکولوں کے بہتر حالات اور تعلیمی سہولتوں کے مطالبات کے ساتھ ہوا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، عوامی خدمات میں تنزلی اور دیگر سماجی و معاشی مسائل پر احتجاج کرنے والے گروہ بھی شامل ہو گئے،ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مظاہروں میں ٹریڈ یونینوں اور مختلف احتجاجی تنظیموں کی شرکت سے مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوا
حکام کے مطابق ہنگاموں کے دوران 2,500 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ تقریباً 1,000 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں،ملک بھر میں 2,000 سے زیادہ دکانیں اور دیگر کاروباری ادارے تشدد اور لوٹ مار سے متاثر ہوئے ہیں،فرانس کے ایوان ہائے تجارت و صنعت کے سربراہ کے مطابق نقصانات کا تخمینہ کروڑوں یورو میں لگایا جا رہا ہے،وسطی شہر لیموژ میں ہنگامہ آرائی کے دوران تاریخی سٹی ہال میں آگ لگ گئی جس سے عمارت کی چھت اور گھڑی والا مینار تباہ ہو گئے
وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے ہنگامی اجلاس کے بعد کہا ہے کہ مقامی میئرز کو ضرورت کے مطابق محدود علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے،حکومت نے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے اور تشدد کے ذمہ دار افراد سے املاک کو پہنچنے والے نقصان کی رقم وصول کرنے کا بھی اعلان کیا ہے،حکومت کے مطابق فی الحال پورے شہروں میں مکمل کرفیو نافذ کرنے کے بجائے مخصوص علاقوں میں پابندیوں پر توجہ دی جا رہی ہے

قومی خبریں سے مزید