ٹرمپ کی ٹروڈو پر تنقید، کینیڈا کے صحت کے نظام کو بھی نشانہ بنا دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینٹکی میں انتخابی جلسے کے دوران کینیڈا کے سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو ’’ناکام شخص‘‘ قرار دیتے ہوئے کینیڈا کے سرکاری صحت کے نظام پر بھی تنقید کی ان کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی محصولات، اقتصادی تعلقات اور دونوں ملکوں کی پالیسیوں پر اختلافات جاری ہیں
ٹرمپ نے جلسے میں کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا کئی دہائیوں سے کینیڈا کے ساتھ تجارت میں نقصان اٹھا رہا ہے انہوں نے موجودہ وزیر اعظم مارک کارنی کے بارے میں نسبتاً نرم الفاظ استعمال کیے، تاہم کہا کہ تجارت کے معاملے میں کارنی کا رویہ مختلف ہے۔ 
ٹرمپ نے کینیڈا کے صحت کے نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سرکاری سطح پر فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں اور علاج کے لیے انتظار کی مدت پر سوال اٹھائے وہ ماضی میں بھی کینیڈا کے صحت کے نظام کو سست قرار دیتے رہے ہیں اور دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ بعض کینیڈین مریض علاج کے لیے امریکا کا رخ کرتے ہیں تاہم کینیڈا کے نظام میں علاج کے انتظار سے متعلق مسائل اور امریکا میں علاج کی بلند قیمتیں دو الگ معاملات ہیں، جنہیں محض سیاسی بیانات سے نہیں پرکھا جاسکتا
ٹرمپ کی تنقید کا ایک اہم پہلو کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی اختلافات ہیں دونوں ملکوں کے تعلقات میں محصولات اور تجارتی شرائط پر کشیدگی پائی جاتی ہے ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا کینیڈا کے ساتھ تجارت میں نقصان اٹھاتا ہے، جبکہ کینیڈا کی حکومت اپنے صنعتی شعبوں، ملازمتوں اور قومی معاشی مفادات کے تحفظ پر زور دیتی ہے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملک کسی مرحلے پر ایک بڑے تجارتی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں
کینیڈا کے لیے امریکا سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، اس لیے تجارتی تنازع دونوں ملکوں کے کاروبار، صنعتوں اور صارفین کو متاثر کرسکتا ہے خصوصاً گاڑیوں، اسٹیل، توانائی اور دیگر صنعتی شعبوں میں محصولات کے اثرات قیمتوں اور روزگار پر پڑ سکتے ہیں دوسری جانب امریکا اور کینیڈا کی صنعتیں ایک دوسرے کی سپلائی چین سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، اس لیے تجارتی پابندیوں کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے
ٹروڈو پر ٹرمپ کی ذاتی تنقید بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان ماضی کی کشیدگی کی یاد دلاتی ہے ٹروڈو اب وزیر اعظم نہیں ہیں اور ان کی جگہ مارک کارنی حکومت کی قیادت کر رہے ہیں اس کے باوجود ٹرمپ کے بیانات میں سابق حکومت اور کینیڈا کی پالیسیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے
موجودہ صورت حال میں اصل سوال یہ ہے کہ آیا دونوں ملک سیاسی بیانات اور باہمی الزامات سے آگے بڑھ کر تجارتی مسائل کا کوئی قابل قبول حل نکال سکتے ہیں ٹرمپ نے معاہدے کی امید ظاہر کی ہے، لیکن محصولات، صحت کے نظام اور دونوں ملکوں کے معاشی مفادات پر اختلافات بدستور موجود ہیں





