البرٹا کے فوجی اڈے میں دھماکے اور آتش زدگی سے کم از کم 7 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
کینیڈا کے صوبے البرٹا میں کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ میں 17 اکتوبر 2026 کو ہونے والے ایک سنگین واقعے کے بعد دھماکے اور بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں آگ تیز ہواؤں کے باعث فوجی اڈے کی حدود سے نکل کر قریبی دیہی علاقے تک پھیل گئی زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث ایڈمنٹن کے اسپتالوں پر بھی شدید دباؤ پڑا
وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے اور انہیں حالیہ عرصے میں اس نوعیت کے واقعے کی کوئی مثال یاد نہیں تاہم کینیڈین مسلح افواج نے تاحال ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی حتمی تعداد اور شناخت جاری نہیں کی حکام کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو اطلاع دینے اور واقعے کے مکمل اثرات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ہفتے کی سہ پہر تقریباً 4 بجے فوجی تربیتی علاقے میں لگی۔ بعض اطلاعات میں دھماکے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ فائرنگ کی مشق کے دوران گیس کی پائپ لائن یا کنویں کو نقصان پہنچنے سے آگ بھڑکی ہو۔ تاہم دھماکے کی اصل وجہ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی اور تحقیقات جاری ہیں
تیز ہواؤں نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا بعض اطلاعات کے مطابق ہواؤں کی رفتار تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ رہی تھی، جس سے آگ تیزی سے پھیلی اور فوجی اڈے کی حدود سے باہر نکل گئی متعدد علاقوں کی فائر فائٹنگ ٹیموں اور ہنگامی امدادی اداروں نے آگ پر قابو پانے اور متاثرہ افراد کو بچانے کے لیے کارروائیاں کیں
زخمیوں کو وین رائٹ اور ایڈمنٹن کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ایڈمنٹن کے رائل الیگزینڈرا اسپتال اور یونیورسٹی آف البرٹا اسپتال سمیت طبی مراکز میں بڑی تعداد میں زخمیوں کی آمد کے باعث ہنگامی صورت حال نافذ کرنا پڑی طبی حکام نے عوام سے کہا کہ وہ غیر ضروری طور پر ہنگامی شعبوں کا رخ نہ کریں تاکہ شدید زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔ امدادی کارروائیوں کے لیے دوسرے علاقوں سے بھی ایمبولینسیں طلب کی گئیں
وزیر اعظم مارک کارنی نے متاثرہ فوجیوں، زخمیوں اور ان کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت البرٹا کی حکومت اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ضروری امداد فراہم کر رہی ہے البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے بھی واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا وزیر دفاع کے مطابق فوج، پولیس، طبی عملے اور دیگر ہنگامی اداروں کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے متاثرہ افراد کی مدد کی جارہی ہے
وین رائٹ فوجی اڈہ ایڈمنٹن سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور کینیڈا کے اہم فوجی تربیتی مراکز میں شامل ہے یہاں فوجیوں کو جنگی حالات میں کارروائیوں، فائرنگ اور دیگر عسکری سرگرمیوں کی تربیت دی جاتی ہے اس اڈے پر 2021 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 1,310 فوجی اور سویلین ملازمین تعینات تھے واقعے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات میں یہ جاننا اہم ہوگا کہ آیا آگ کسی تربیتی سرگرمی، تکنیکی خرابی یا کسی دوسرے سبب سے شروع ہوئی۔
اس واقعے کے اثرات فوجی اڈے تک محدود نہیں رہے آگ کے پھیلاؤ اور ہنگامی کارروائیوں کے باعث البرٹا کے بعض علاقوں میں صوبے سے علیحدگی کے مجوزہ ریفرنڈم کے لیے قبل از وقت ووٹنگ کے 2 مراکز بھی بند کرنا پڑے حکام نے لوگوں کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے، امدادی گاڑیوں کے لیے سڑکیں کھلی رکھنے اور مقامی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی
سرکاری تحقیقات اب اس واقعے کی اصل وجہ، جانی نقصان کی حتمی تعداد اور فوجی تربیتی علاقے میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیں گی فی الحال کم از کم 7 ہلاکتوں اور درجنوں زخمیوں کی اطلاعات موجود ہیں، لیکن کینیڈین مسلح افواج نے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی





