Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مڈٹرم انتخابات سے جڑا قومی خوف :جمہوریت بچے گی ؟ مداخلت کے خدشات، انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے ریاستیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک

مڈٹرم انتخابات سے جڑا قومی خوف :جمہوریت بچے گی ؟
مداخلت کے خدشات، انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے ریاستیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک

امریکہ میں نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے انتخابی عمل میں ممکنہ مداخلت، وفاقی اختیارات کے استعمال اور ووٹروں کے حق رائے دہی کے تحفظ سے متعلق خدشات شدت اختیار کر رہے ہیں،امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے کی 18 اکتوبر 2026 کی رائے پر مبنی تحریر میں خبردار کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا خدشہ محض مستقبل کا معاملہ نہیں، بلکہ ابتدائی ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہونے کے ساتھ ہی یہ بحث عملی اہمیت اختیار کر چکی ہے
اخبار کی تحریر کے مطابق، اس وقت تک تقریباً 80 لاکھ ووٹ ابتدائی ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے ڈالے جا چکے تھے،اس صورت حال میں انتخابی انتظامیہ کے لیے چیلنج صرف ووٹنگ کو منظم طریقے سے مکمل کرانا نہیں بلکہ انتخابی مراکز اور ووٹ جمع کرانے کے مقامات کو کسی ممکنہ مداخلت سے محفوظ رکھنا بھی ہے
امریکہ کی مختلف ریاستوں میں انتخابی حکام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انتخابات کے پُرامن انعقاد کی تیاری کر رہے ہیں،رپورٹ میں اس امکان پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ مسلح وفاقی اہلکار پولنگ اسٹیشنوں یا ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ جمع کرانے کے مراکز پر پہنچ سکتے ہیں،تحریر کے مطابق، اس نوعیت کی کارروائی وفاقی قانون کی خلاف ورزی بن سکتی ہے اور اسے روکنے کے لیے تین مقدمات بھی دائر کیے جا چکے ہیں
امریکی آئین کے آرٹیکل ایک کے تحت انتخابات کے انتظام کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں اور کانگریس کے پاس ہے،یو ایس اے ٹوڈے کی تحریر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر کو انتخابات پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا غیر محدود اختیار حاصل نہیں،وفاقی اہلکاروں کی پولنگ مراکز پر تعیناتی کے خلاف دائر مقدمات بھی اسی آئینی اور قانونی تنازعہ کا حصہ ہیں
اس تنازعہ کا پس منظر 2020 کے صدارتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی سے بھی جڑا ہوا ہے، جب صدر ٹرمپ نے اپنی شکست تسلیم کرنے کے بجائے انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے،اب 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے انتخابی ضوابط، ڈاک کے ذریعے ووٹنگ اور وفاقی اداروں کے کردار پر ہونے والی بحث نے ایک بار پھر انتخابی عمل کی آزادی اور شفافیت کو اہم سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے
ریاستی اور مقامی انتخابی حکام کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ ووٹرز بلا خوف و دباؤ اپنا حق استعمال کر سکیں اور ووٹوں کی گنتی قانونی طریقۂ کار کے مطابق مکمل ہو،دوسری جانب انتظامیہ اور اس کے حامی انتخابی سلامتی اور دھاندلی کی روک تھام کو اپنی ترجیحات قرار دیتے ہیں،اصل قانونی سوال یہ ہے کہ انتخابی سلامتی کے نام پر وفاقی حکومت کہاں تک کارروائی کر سکتی ہے اور کس مقام پر اس کے اقدامات ریاستوں کے آئینی اختیارات یا ووٹروں کے حقوق سے متصادم ہو سکتے ہیں
یہ انتخابات نہ صرف کانگریس میں سیاسی طاقت کے توازن بلکہ وفاقی حکومت اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کی حدود کا بھی امتحان ہوں گے،انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوگا کہ کسی بھی مداخلت کے خدشے کا جائزہ شواہد، قانون اور عدالتی نگرانی کی بنیاد پر لیا جائے، تاکہ ووٹنگ کے عمل کی آزادی اور نتائج کی قانونی حیثیت پر عوامی اعتماد متاثر نہ ہو

قومی خبریں سے مزید