ایلون مسک نے ٹیکساس میں کین پیکسٹن کی سینیٹ مہم کے لیے 158 ملین ڈالر جھونک دیے، ریپبلکنز نے جمہوریت کو دولت سے نتھی کردیا
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی جانب سے ریپبلکن سینیٹ قیادت کے سپر پی اے سی کو 158 ملین ڈالر کی خطیر رقم دی گئی، جو اگلے ہی دن ٹیکساس میں کین پیکسٹن کی حمایت کرنے والے گروپ کو منتقل کر دی گئی،ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کے مقابلے میں مالی وسائل کے دباؤ کا سامنا کرنے والی پیکسٹن کی مہم کو اس رقم سے بڑا سہارا ملا ہے
نیویارک ٹائمز کے صحافی تھیوڈور شلائفر کی رپورٹ کے مطابق، مسک نے ستمبر میں یہ رقم دو الگ الگ عطیات کی صورت میں فراہم کی،انہوں نے 9 ستمبر کو 75 ملین ڈالر اور 23 ستمبر کو مزید 83 ملین ڈالر سینیٹ لیڈرشپ فنڈ کو دیے،دونوں مرتبہ اس فنڈ نے اگلے ہی روز اتنی ہی رقم ٹیکساس پی اے سی کو منتقل کر دی،یہ گروپ پیکسٹن کی سینیٹ مہم کی حمایت کے لیے قائم کیا گیا تھا،انتخابی مالیاتی دستاویزات سے ان رقوم کی منتقلی کا پتا چلا ہے
یہ عطیات امریکی سیاسی تاریخ میں کسی ایک شخص کی جانب سے انتخابی مقاصد کے لیے دی جانے والی بڑی رقوم میں شمار ہوتے ہیں،مسک اس سال وسط مدتی انتخابات کے سب سے بڑے معلوم عطیہ دہندہ بن چکے ہیں،مختلف ریپبلکن انتخابی گروپوں کو جولائی سے اب تک ان کی مجموعی مالی معاونت 276 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے،اس میں سینیٹ لیڈرشپ فنڈ کو دیے گئے 158 ملین ڈالر کے علاوہ دیگر سیاسی گروپوں کے لیے رقوم بھی شامل ہیں
ٹیکساس میں یہ غیر معمولی مالی مداخلت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریپبلکن پارٹی کو خدشہ ہے کہ ریاست کی سینیٹ نشست پر اس کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے،ٹیکساس طویل عرصے سے ریپبلکنز کا مضبوط انتخابی مرکز رہا ہے اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ڈیموکریٹس یہاں کسی ریاستی سطح پر انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے،اس بار سابق ریاستی اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو سے ہے، جنہوں نے انتخابی مہم کے لیے بڑی رقم جمع کی ہے
ٹالاریکو کی مہم نے پیکسٹن کے قانونی تنازعات اور ان پر ہونے والی تنقید کو انتخابی مہم کا اہم موضوع بنایا ہے،پیکسٹن ماضی میں مواخذے کا سامنا کر چکے ہیں، تاہم ریاستی سینیٹ نے انہیں بری کر دیا تھا،ان کے مخالفین ان کے قانونی اور ذاتی تنازعات کو ان کی سیاسی ساکھ کے لیے مسئلہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ریپبلکن قیادت کو ان کی انتخابی مہم کے لیے بھاری اخراجات اٹھانے پڑ رہے ہیں
مسک کی مالی مدد نے ریپبلکنز کو ٹیکساس میں ٹیلی وژن اشتہارات اور دیگر انتخابی سرگرمیوں پر اخراجات بڑھانے کا موقع دیا ہے،اس سے پارٹی کو دوسری اہم ریاستوں میں بھی اپنے امیدواروں کی حمایت کے لیے وسائل بچانے میں مدد مل سکتی ہے،ریپبلکن قیادت کو پہلے ہی خدشہ تھا کہ پیکسٹن کو نامزد کرنے کی صورت میں ڈیموکریٹ امیدوار کے مقابلے کے لیے بہت زیادہ رقم درکار ہوگی
تاہم، سینیٹ لیڈرشپ فنڈ کی جانب سے پیکسٹن کی حمایت کرنے والے گروپ کو رقم منتقل کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ منتقل کی گئی پوری رقم لازماً مسک ہی کی تھی،سپر پی اے سی کے عہدیداروں نے عوامی سطح پر کہا تھا کہ وہ پیکسٹن کی حمایت میں انتخابی مہم چلانے کے لیے مزید عطیات جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،انتخابی مالیاتی دستاویزات رقم کی منتقلی کا راستہ دکھاتی ہیں، لیکن ہر منتقل شدہ ڈالر کے اصل ماخذ کے بارے میں الگ سے نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا
یہ مقابلہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کی اہم ترین سینیٹ دوڑ میں شامل ہو چکا ہے،اس کے نتائج امریکی سینیٹ میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں،مسک کی بھاری مالی معاونت نے ریپبلکنز کی انتخابی حکمت عملی میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کر دیا ہے، جبکہ ٹالاریکو کی مہم اس مقابلے کو بڑے سرمایہ داروں کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں عام ووٹروں کی آواز کے طور پر پیش کر رہی ہے






