Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ روس سے ڈیزل خریدنے پر تیار، مگر یوکرین کے ریفائنریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ ناکام، توانائی جنگ نے عالمی معیشت کو نئے خطرے سے دوچار کر دیا

ٹرمپ روس سے ڈیزل خریدنے پر تیار، مگر یوکرین کے ریفائنریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ ناکام، توانائی جنگ نے عالمی معیشت کو نئے خطرے سے دوچار کر دیا

یوکرین نے روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے روس کے ساتھ طے پانے والے توانائی معاہدے اور عارضی جنگ بندی کی کوشش کو بڑا دھچکا لگا ہے،روس کے ریازان علاقے کے گورنر کے مطابق جمعرات کو یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی،یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی واضح کر دیا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رہنے کی صورت میں کیف اپنی کارروائیاں غیر معینہ مدت تک معطل نہیں رکھے گا
اس تنازعہ کا اہم پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ ایک طرف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ کرکے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ یوکرین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ روس کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ نہ بنائے،امریکی صدر نے روسی تنصیبات پر یوکرینی حملوں کو ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی ایک وجہ قرار دیا ہے،لیکن اس پالیسی نے واشنگٹن کو ایک مشکل تضاد سے دوچار کر دیا ہے،امریکہ روس سے ایندھن حاصل کرکے رسد بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ یوکرین انہی روسی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جن سے ایندھن کی پیداوار اور برآمدات وابستہ ہیں
ٹرمپ نے روس سے ڈیزل کی فراہمی کے لیے پیوٹن کے ساتھ معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس فوری طور پر 300,000 ٹن سے زیادہ ڈیزل امریکی اور عالمی منڈیوں کو فراہم کرے گا، نومبر میں مزید 500,000 ٹن اور اس کے بعد مزید مقدار فراہم کی جائے گی،اس اعلان کے ساتھ امریکی انتظامیہ نے روسی ایندھن کی درآمد سے متعلق پابندیوں میں عارضی نرمی بھی کی،اس اقدام کا مقصد ایندھن کی مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنا ہے، تاہم اس نے روس کے خلاف پابندیوں اور یوکرین کی حمایت سے متعلق امریکی پالیسی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں

قومی خبریں سے مزید