یوکرینی فوج کو جنگ کے دوران اسٹارلنک انٹرنیٹ کی رسائی محدود، روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں امریکی پیشگی اطلاع کی سہولت بھی غائب
یوکرین کے محاذِ جنگ پر لڑنے والے فوجیوں کو ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹرمینلز تک رسائی اچانک محدود ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے،برطانوی اخبار دی گارڈین کی 14 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ یوکرین پر روس کی تیل کی صنعت کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملے فوری طور پر روکنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ایک فوجی ٹیکنالوجی مشیر کے مطابق، منگل کی شام تیز رفتار حرکت کرنے والے اسٹارلنک ٹرمینلز پر اچانک پابندیوں کے نتیجے میں متعدد فوجی کارروائیاں ناکام ہوئیں،اسٹارلنک یوکرینی فوج کے لیے مواصلات اور میدانِ جنگ میں رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس کے ذریعے فوجی یونٹوں کے درمیان معلومات کی ترسیل اور مختلف کارروائیوں میں رابطہ برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے
اسٹارلنک سروس میں تعطل ایسے وقت آیا جب روس نے مسلسل دوسری رات یوکرین پر بیلسٹک میزائل داغے، لیکن امریکا کی جانب سے حملوں کے بارے میں پیشگی انتباہ موصول نہیں ہوا،گزشتہ کئی برسوں سے امریکا یوکرین کو روسی حملوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کرتا رہا ہے تاکہ یوکرینی حکام اور فوج ممکنہ خطرات کے لیے تیاری کر سکیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ان کی انتظامیہ نے یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ روک دیا ہے،دوسری جانب زیلنسکی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ امریکا یوکرین کو انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے
اسٹارلنک کی رسائی میں اچانک رکاوٹ اور روسی میزائل حملوں سے قبل امریکی انتباہ نہ ملنے کے واقعات نے یوکرین کی جنگی صلاحیت اور امریکی معاونت کے تسلسل سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے،تاہم دستیاب رپورٹ کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اسٹارلنک پر پابندیاں براہ راست ٹرمپ انتظامیہ کے حکم پر لگائی گئیں یا ان کا مقصد یوکرین کے روسی تیل کی تنصیبات پر حملوں کو روکنا تھا






