Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

حوثی باغیوں کا چین سے حاصل کردہ پرزوں کی مدد سے جدید بیلسٹک میزائل بنانے کا انکشاف، سعودی عرب اور اسرائیل نشانے پر آ سکتے ہیں

حوثی باغیوں کا چین سے حاصل کردہ پرزوں کی مدد سے جدید بیلسٹک میزائل بنانے کا انکشاف، سعودی عرب اور اسرائیل نشانے پر آ سکتے ہیں

یمن کے حوثی باغی ایران پر انحصار کم کرتے ہوئے چین سے حاصل کردہ پرزوں کی مدد سے جدید درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسلحے کی نگرانی اور تنازعات والے علاقوں میں ہتھیاروں کی ترسیل کا سراغ لگانے والے ادارے کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نے ایسے شواہد کی نشاندہی کی ہے جن سے حوثیوں کی میزائل سازی کی صلاحیت میں اضافے کا پتا چلتا ہے
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے چین کے ایک سپلائر سے ایسے مختلف پرزے حاصل کیے ہیں جو ایران کے جدید اور درست نشانہ لگانے والے میزائل خیبر شکن سے مشابہ میزائل تیار کرنے میں استعمال ہو سکتے ہیں،مجوزہ حوثی میزائل کی ممکنہ مار تقریباً 1,200 میل، یعنی لگ بھگ 1,930 کلومیٹر، بتائی گئی ہے،اس فاصلے کی صلاحیت حاصل ہونے کی صورت میں سعودی عرب اور اسرائیل سمیت خطے کے وسیع علاقے اس کی زد میں آ سکتے ہیں
ایران نے خیبر شکن میزائل پہلی مرتبہ 2022 میں تہران میں پیش کیا تھا،یہ نسبتاً کم لاگت، نقل و حرکت کے قابل اور درست نشانہ لگانے کے لیے تیار کیا گیا ہتھیار ہے،وال اسٹریٹ جرنل کی سابقہ رپورٹنگ کے مطابق، ایران نے گزشتہ موسم بہار میں امریکا کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوجی اڈوں کے خلاف بھی اس میزائل کا استعمال کیا تھا
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ حوثی باغیوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے خلاف حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے،رپورٹ کے مطابق ان حملوں کا مقصد ریاض کی قیادت میں جاری ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے
چین سے حاصل کردہ پرزوں کی مدد سے میزائل تیار کرنے کی کوشش حوثیوں کی عسکری صلاحیت کے حوالے سے ایک اہم سوال اٹھاتی ہے،کیا یہ گروہ ایران کی براہ راست مدد کے بغیر بھی زیادہ جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار تیار کرنے کے قابل ہو رہا ہے؟ اگر یہ صلاحیت عملی طور پر ثابت ہو جاتی ہے تو سعودی عرب سمیت خطے کے دوسرے ممالک کے لیے خطرات کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے،تاہم رپورٹ میں بیان کردہ پرزوں کی فراہمی اور میزائل سازی کی کوشش کو اس بات کا حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ حوثیوں نے ایسا میزائل مکمل طور پر تیار اور عملی استعمال کے لیے فعال کر لیا ہے

قومی خبریں سے مزید