Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

وسط مدتی انتخابات سے پہلے اہم ریاستوں میں ری پبلکن امیدوار ٹرمپ سے فاصلہ بڑھانے لگے

وسط مدتی انتخابات سے پہلے اہم ریاستوں میں ری پبلکن امیدوار ٹرمپ سے فاصلہ بڑھانے لگے

امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں صرف تین ہفتے باقی رہ جانے کے ساتھ ری پبلکن پارٹی کے بعض امیدوار اہم انتخابی معاملات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف کرنے اور اپنی انتخابی مہم کو ان کی شخصیت اور پالیسیوں سے الگ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں،فاکس نیوز کے مطابق یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ری پبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے
ری پبلکن پارٹی کے تجربہ کار انتخابی حکمت کار ڈگ ہائے نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ جب کسی صدر کی مقبولیت کم ہو تو وسط مدتی انتخابات میں ان کی جماعت کے امیدواروں کا ان سے فاصلہ اختیار کرنا غیر معمولی بات نہیں،ان کے مطابق ٹرمپ کے بعض متنازعہ اقدامات نے بھی اس رجحان کو تقویت دی ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جن کا تعلق عوام کے اخراجات کم کرنے یا ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے جیسے انتخابی وعدوں سے براہ راست نہیں بنتا
رپورٹ کے مطابق امریکی سیاست میں اس طرح کی صورت حال ماضی میں بھی دیکھی گئی ہے،2022 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سابق صدر جو بائیڈن کی جماعت کے بعض امیدواروں نے بھی اپنی انتخابی مہم میں صدر سے فاصلہ رکھا تھا
دوسری جانب ری پبلکن نیشنل کمیٹی کا مؤقف ہے کہ پارٹی صدر ٹرمپ کے ساتھ متحد ہے، تاہم اس نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ مختلف انتخابی حلقوں میں ری پبلکن امیدواروں کو اپنے اپنے سیاسی حالات کے مطابق مہم چلانا پڑ رہی ہے
انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں یہ اختلاف اس لیے اہم ہے کہ 3 نومبر کے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول طے ہونا ہے،ری پبلکن امیدواروں کے لیے ایک طرف ٹرمپ کے حامی ووٹروں کو متحرک رکھنا اور دوسری طرف آزاد ووٹروں اور معتدل مزاج شہریوں کی حمایت حاصل کرنا اہم انتخابی چیلنج ہے،تاہم امیدواروں کا ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کرنا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس حکمت عملی سے انہیں انتخابی فائدہ ضرور ہو

قومی خبریں سے مزید