بھارت میں نوجوانوں کی احتجاجی جماعت کے دو رہنما پانچ روز کے لیے جیل بھیج دیے گئے، مودی حکومت کے خلاف انتخابی فہرستوں پر احتجاج شدت اختیار کرنے کا خدشہ
بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم جماعت ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے دو رہنماؤں کو ایک تاریخی احتجاجی مقام پر پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہونے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر نعرے لگانے کے الزام میں پانچ روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے،جماعت اور پولیس کے مطابق، عدالتی حکم کے تحت سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو حراست میں جیل منتقل کیا گیا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے منگل کو احتجاجی مقام کے گرد لگائی گئی رکاوٹیں عبور کی تھیں،بدھ کو ان کی پانچ روزہ قید کی اطلاع سامنے آئی،پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں بار بار قانون کی خلاف ورزی کرنے پر جیل بھیجا گیا ہے، جبکہ جماعت نے واضح کیا ہے کہ قید سے اس کی تحریک خوف زدہ نہیں ہوگی
یہ کارروائی ایسے وقت ہوئی ہے جب بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں اور طلبہ تنظیمیں انتخابی فہرستوں میں ووٹروں کے ناموں کی نظرثانی کے خلاف تقریباً روزانہ مظاہرے کر رہی ہیں،مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے
انتخابی فہرستوں میں ناموں کے حذف ہونے کا معاملہ اس تنازع کا مرکزی نکتہ ہے،ناقدین کو خدشہ ہے کہ ووٹروں کے نام غلط طور پر خارج کیے جانے سے انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے،دوسری جانب، الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ووٹروں کے نام غلطی سے حذف ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں
حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی حزبِ اختلاف کے الزامات کو مسترد کیا ہے،پارٹی کا مؤقف ہے کہ جائز انتخابی طریقۂ کار پر بلاجواز سوال اٹھا کر مخالفین جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری سے نوجوان کارکنوں میں مزید احتجاج کا امکان پیدا ہو گیا ہے،تاہم، آیا یہ کارروائی تحریک کو مزید متحرک کرے گی یا احتجاجی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا سبب بنے گی، اس کا انحصار آئندہ دنوں میں جماعت کے ردعمل اور دوسری اپوزیشن تنظیموں کی حکمت عملی پر ہوگا





