ٹرمپ کی الہان عمر کو ملک بدر کرنے کے سوال پر خاموشی، چھاپے کے اگلے روز بھی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس پر ذاتی حملے جاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر کو ملک بدر کرنے کے امکان پر واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم ان کے خلاف ذاتی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے، یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی حکام الہان عمر کی امیگریشن دستاویزات سے متعلق جاری فوجداری تحقیقات کے سلسلے میں واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لے چکے ہیں اور وہ تقریباً تین ہفتے بعد دوبارہ انتخابی مقابلے میں حصہ لینے والی ہیں
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق، ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے الہان عمر کو ایک بُری شخصیت اور ناقص رکنِ کانگریس قرار دیا،جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی کے تحقیقاتی ادارے کی جانب سے پیر کو ان کے گھر کی تلاشی کے بعد الہان عمر کو امریکہ سے ملک بدر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کر رہے
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ الہان عمر اپنے ملک سے محبت نہیں کرتیں، تاہم انہوں نے ان کی ملک بدری کی حمایت یا مخالفت میں واضح جواب نہیں دیا،فی الحال یہ بھی واضح نہیں کہ جاری تحقیقات کے تناظر میں ان کی ملک بدری کا معاملہ زیر غور ہے یا نہیں
الہان عمر 2018 میں پہلی مرتبہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ صومالیہ میں پیدا ہونے والی وہ کانگریس کی پہلی صومالی نژاد امریکی رکن ہیں اور 2000 میں امریکی شہریت حاصل کر چکی ہیں،وہ ایک امریکی شہری اور موجودہ رکنِ کانگریس ہیں، اس لیے ان کے امیگریشن ریکارڈ سے متعلق تحقیقات اور ملک بدری کے امکان کے درمیان قانونی فرق کو سمجھنا اہم ہے
اے بی سی نیوز کے مطابق، تحقیقات کا تعلق الہان عمر کے امیگریشن کاغذات سے ہے،تاہم، انہوں نے کسی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور اب تک ان پر اس معاملے میں کوئی فوجداری الزام عائد نہیں کیا گیا
اس معاملے کی سیاسی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ الہان عمر کو دوبارہ انتخاب کے لیے چند ہفتوں میں ووٹروں کا سامنا کرنا ہے،ایک جانب ان کی رہائش گاہ کی تلاشی اور دوسری جانب صدر کے سخت بیانات نے قانونی تحقیقات اور انتخابی سیاست کے باہمی تعلق پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں
تاہم، کسی گھر کی تلاشی بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں اور نہ ہی تحقیقات کی موجودگی کسی شخص کو مجرم قرار دینے کے لیے کافی ہے،اس معاملے میں اصل اہمیت ان شواہد اور قانونی نتائج کی ہوگی جو تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے





