میزائل کی رینج بڑھ گئی، مگر عوام کی زندگی میں خوشحالی کب آئے گی؟ پاکستان کی سلامتی کا اصل امتحان سرحدوں سے آگے
اسلام آباد :پاکستان نے فتح ٹو ای آر میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کیا ہے،فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق توسیع شدہ رینج کا حامل یہ میزائل جدید نیویگیشن نظام اور ایویونکس سے لیس ہے، راستے اور سمت میں تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے اور انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے،آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ میزائل دشمن کے دفاعی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،تجربے کا مشاہدہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے کمانڈر، فوج کے سینئر افسران، سائنسدانوں اور انجینئرز نے کیا، جبکہ صدر مملکت، وزیراعظم اور عسکری قیادت نے متعلقہ ٹیموں کو مبارک باد دی،بلاشبہ دفاعی ٹیکنالوجی میں پیش رفت کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کے لیے اہم ہو سکتی ہے، لیکن پاکستان کے موجودہ حالات میں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے،کیا میزائلوں کی رینج میں اضافہ ریاست کی ان مشکلات کو بھی کم کر سکتا ہے جن سے اس کے شہری روزانہ نبرد آزما ہیں؟
پاکستان ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جس میں قومی سلامتی کے روایتی تصورات اور عوام کی روزمرہ زندگی کے مسائل کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ زیر بحث ہے،ایک طرف دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور خطے کے غیر یقینی حالات دفاعی تیاریوں کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں، تو دوسری طرف غربت، مہنگائی، بے روزگاری، محدود معاشی مواقع، سیاسی عدم استحکام اور اداروں پر عوامی اعتماد کے سوالات ریاست کے سامنے قطار در قطار کھڑے ہیں، عام شہری کے لیے قومی طاقت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ملک کتنی دور تک مار کرنے والا میزائل تیار کر سکتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دے سکتا ہے یا نہیں، بیماری کی صورت میں علاج کی استطاعت رکھتا ہے یا نہیں، روزگار سے گھر چلا سکتا ہے یا نہیں اور اسے اپنے مستقبل کے بارے میں کتنی امید ہے
عالمی بینک کی 2026 کی پاکستان سے متعلق رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں غربت کی شرح بڑھ کر تقریباً 29 فیصد ہوگئی، جبکہ 2025-26 میں معاشی ترقی کے باوجود روزگار پیدا کرنے کی رفتار بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی رہی،عالمی بینک کے مطابق ہر سال تقریباً 35 لاکھ افراد پاکستان کی افرادی قوت میں شامل ہوتے ہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی بحالی کا اصل امتحان محض مجموعی قومی پیداوار میں اضافے سے نہیں ہوگا، بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ کتنے لوگوں کو باعزت روزگار ملتا ہے، کتنے خاندان غربت سے نکلتے ہیں اور عام شہری کی حقیقی آمدنی میں کتنا اضافہ ہوتا ہے
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے،میزائل دشمن کی فوجی کارروائی کو روکنے، جوابی حملے کی صلاحیت برقرار رکھنے اور ممکنہ جارحیت کی قیمت بڑھانے کے لیے اہم ہو سکتا ہے،لیکن وہ مہنگائی کم نہیں کرتا، بے روزگار نوجوان کو ملازمت نہیں دیتا، سرکاری اسپتال میں سہولتیں بہتر نہیں بناتا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد بحال نہیں کرتا،ان مسائل کے لیے مختلف ریاستی صلاحیتیں، بہتر معاشی پالیسیاں، مضبوط ادارے، قانون کی بالادستی اور جواب دہ حکمرانی درکار ہوتی ہے
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے 1994 کی انسانی ترقی کی رپورٹ میں انسانی سلامتی کا تصور پیش کرتے ہوئے سلامتی کی توجہ محض سرحدوں اور علاقوں کے تحفظ سے ہٹا کر انسانوں کی زندگی اور ضروریات کی طرف مبذول کرائی تھی، اس تصور میں معاشی تحفظ، خوراک، صحت، ذاتی سلامتی، سماجی تحفظ اور سیاسی آزادیاں بھی شامل ہیں،اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایک محفوظ ریاست وہی نہیں جس کی سرحدیں فوجی طور پر محفوظ ہوں، بلکہ وہ بھی ہے جہاں شہری بھوک، بیماری، خوف اور محرومی سے محفوظ رہ سکیں
اس اصول کو پاکستان پر لاگو کیا جائے تو میزائل تجربے کے بعد بحث کا دائرہ محض عسکری کامیابی یا ناکامی تک محدود نہیں رہنا چاہیے،سوال یہ بھی ہے کہ دفاعی قوت کے ساتھ ریاست اپنی معاشی اور سماجی قوت کس رفتار سے بڑھا رہی ہے،دفاعی بجٹ قومی وسائل کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے اور اس کے اخراجات کا جواز قومی سلامتی کی ضروریات سے وابستہ ہوتا ہے،لیکن محدود مالی وسائل رکھنے والے ملک میں ہر بڑے سرکاری خرچ کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور غربت میں کمی کے لیے کتنے وسائل دستیاب ہیں اور ان سے حاصل ہونے والے نتائج کیا ہیں
پاکستان کے مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں دفاعی خدمات کے لیے 2.55 کھرب روپے مختص کیے گئے تھے،یہ رقم بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ دفاعی اخراجات غیر ضروری ہیں، کیونکہ ملک کو حقیقی سکیورٹی خطرات بھی درپیش ہیں،تاہم اتنے بڑے قومی بجٹ میں دفاع اور انسانی ترقی کے درمیان ترجیحات کا شفاف جائزہ لینا ضروری ہے،ریاست کو عوام کے سامنے یہ وضاحت بھی کرنی چاہیے کہ دفاعی تیاریوں کے ساتھ تعلیم، صحت، معاشی مواقع اور سماجی تحفظ میں بہتری کے لیے کیا قابل پیمائش اہداف مقرر کیے گئے ہیں
پاکستان کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی اور داخلی بدامنی کا مقابلہ صرف فوجی طاقت سے نہیں کیا جا سکتا،فوجی کارروائیاں فوری خطرات کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن پائیدار امن کے لیے پولیس، عدالتی نظام، مقامی انتظامیہ، انٹیلی جنس تعاون، مؤثر سرحدی انتظام اور متاثرہ علاقوں میں معاشی و سماجی ترقی بھی ضروری ہے،اگر شہریوں کو مسلسل بدامنی، بے یقینی اور روزگار کی کمی کا سامنا رہے تو ریاست کے لیے دیرپا استحکام قائم کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے
اسی طرح سیاسی تقسیم اور سماجی قطبیت بھی قومی سلامتی سے الگ معاملات نہیں،جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو مستقل دشمن سمجھنے لگیں، اختلاف رائے کو غداری سے جوڑا جائے اور اداروں پر اعتماد سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بدلتا رہے تو قومی پالیسیوں میں تسلسل متاثر ہوتا ہے،دفاعی منصوبوں کو بھی طویل مدتی معاشی حکمت عملی، تکنیکی تحقیق، صنعتی ترقی اور قومی اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے،مضبوط ریاست کی پہچان صرف اس کی عسکری صلاحیت نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے ادارے سیاسی اختلافات کے باوجود بنیادی قومی اہداف پر کام جاری رکھ سکیں
پاکستان کے علاقائی تعلقات اور خارجہ پالیسی بھی اسی بحث کا حصہ ہیں،بھارت کے ساتھ کشیدگی، افغانستان کی سرحد پر سلامتی کے مسائل اور وسیع تر خطے میں بدلتی ہوئی صف بندیوں کے باعث دفاعی تیاریوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،تاہم میزائل کی صلاحیت میں اضافہ خود بخود اچھے سفارتی تعلقات، سرحدی امن یا تجارتی مواقع پیدا نہیں کرتا،ان مقاصد کے لیے سفارت کاری، علاقائی تعاون، تجارت، مؤثر سرحدی انتظام اور تنازعات کو قابو میں رکھنے کی حکمت عملی بھی درکار ہوتی ہے،قومی طاقت کے مختلف ذرائع ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہونے چاہییں
فتح ٹو ای آر کے تجربے کے بارے میں آئی ایس پی آر کے دعووں کو دفاعی ٹیکنالوجی کی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن میزائل کی تکنیکی صلاحیت اور قومی سطح پر اس کے معاشی فوائد دو الگ سوالات ہیں،کسی ہتھیار کی حقیقی افادیت کا تعلق اس کے دفاعی مقصد، عملی ضرورت، لاگت، قابل اعتماد کارکردگی اور مجموعی قومی حکمت عملی سے ہوتا ہے،اسی طرح قومی ترقی کی پیمائش کے لیے غربت، روزگار، تعلیم، صحت، شہری تحفظ اور عوامی اعتماد جیسے اشاریوں کو دیکھنا ضروری ہے
آخرکار پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ وہ دفاعی ٹیکنالوجی میں ترقی کرے یا نہ کرے، بلکہ یہ ہے کہ دفاعی قوت اور عوامی خوشحالی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے دونوں کے لیے قابل عمل راستہ کیسے بنایا جائے،ایک ایسا ملک جو اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا چاہتا ہے، اسے اپنے شہریوں کی زندگی، عزت، معاشی تحفظ اور مستقبل کی امید کی حفاظت بھی کرنا ہوگی
میزائل کی رینج میں اضافہ عسکری صلاحیت کی علامت ہو سکتا ہے، مگر کسی ریاست کی کامیابی کا آخری پیمانہ اس کے شہریوں کی زندگی ہوتی ہے،جب ایک پاکستانی خاندان مہنگائی کے باعث بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکل محسوس کرے، ایک نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہو، ایک مریض علاج کے اخراجات سے خوف زدہ ہو اور ایک شہری سیاسی و معاشی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو تو ریاست کے سامنے سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ اس کا میزائل کتنی دور تک جا سکتا ہے،سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ ریاست اپنے عوام کو غربت، خوف، محرومی اور بے یقینی سے نکالنے کے لیے کتنی دور تک جا سکتی ہے،یہی وہ امتحان ہے جسے کوئی میزائل تنہا کامیاب نہیں بنا سکتا





