فیصل واوڈا کی نئی پیش گوئی، خیبر پختونخوا میں ابھی بہت کچھ بدلنا باقی، تحریک انصاف کو مزید سیاسی جھٹکوں کا سامنا ہوگا؟
اسلام آباد میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مستقل کٹھ پتُلی سینیٹر فیصل واوڈا نے 13 اکتوبر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی حالیہ سیاسی تبدیلیوں کو محض آغاز قرار دیا اور کہا کہ ابھی پارٹ ٹو، پارٹ تھری اور ممکنہ طور پر پارٹ فور اور پارٹ فائیو بھی سامنے آ سکتے ہیں،ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ آیا صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اقدامات کے بعد مزید انتظامی یا سیاسی تبدیلیاں بھی زیرِ غور ہیں،تاہم واوڈا نے اپنی پریس کانفرنس میں آئندہ مراحل کی مکمل تفصیلات یا ان کے لیے کوئی واضح تاریخ نہیں بتائی
فیصل واوڈا نے تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں تقریباً 13 سالہ حکمرانی پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے کو اس عرصے میں تباہی کے سوا کچھ نہیں ملا،ان کا کہنا تھا کہ اب سیاسی نعروں کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے اور نئی انتظامی ٹیم کو اپنی صلاحیت ثابت کرنا ہوگی،انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ انتظام کے تحت ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں، جبکہ بہتر نتائج نہ دینے کی صورت میں اس سے زیادہ اہل افراد کو ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں
واوڈا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو امن و امان کی خراب صورت حال کے تناظر میں ضروری قرار دیا،ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ اور دہشت گردی پر قابو پانا ہونا چاہیے،انہوں نے نئے انتظامی بندوبست کے تحت 60 دن میں نتائج سامنے آنے کی توقع ظاہر کی اور گورنر فیصل کریم کنڈی سمیت متعلقہ ذمہ داران کو کارکردگی ثابت کرنے کا چیلنج دیا،یہ ان کی پیش گوئی اور مطالبہ ہے، اس مدت میں مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی ضمانت نہیں
پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں بھی انہوں نے سخت مؤقف اختیار کیا،واوڈا نے کہا کہ پارٹی منتشر ہو چکی ہے اور اس کا سیاسی شو ختم ہو گیا ہے،انہوں نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ نئی سیاسی جماعت بنانے یا کسی دوسرے سیاسی پلیٹ فارم پر جانے کے بارے میں فیصلہ کریں،تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی میں ایسے افراد موجود ہیں جنہیں وہ محب وطن سمجھتے ہیں اور جو ملک کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں
واوڈا نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی گرفتاریاں اور حالیہ واقعات ایک مربوط صورت حال کا حصہ ہیں،انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی کابینہ کے آٹھ ارکان ان کے ساتھ اسلام آباد میں موجود تھے اور لانگ مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے میں ان کے پاس معلومات تھیں،یہ ان کے بیان کردہ دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے،انہوں نے 27 تاریخ کو لانگ مارچ کے بارے میں اپنی سابقہ پیش گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگلے روز ہونے والے واقعات ان کے اندازے کے مطابق سامنے آئے
سینیٹر نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تقریباً 7,500 افراد، جن میں فوج اور پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں دے چکے ہیں،انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سکیورٹی ادارے قربانیاں دے رہے ہیں تو سیاسی قیادت کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی،ان کے مطابق عوام اب نعروں کے بجائے صحت، تعلیم، امن و امان اور روزمرہ مسائل کے حل کو اہمیت دیں گے
واوڈا نے صدر آصف علی زرداری اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ان سے بات کرنا چاہتے ہیں،انہوں نے موجودہ سیاسی صورت حال کو ایک بڑے نظامی ری سیٹ سے تشبیہ دی اور کہا کہ کسی فرد یا جماعت کو ملک یا صوبے سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی ایک شخصیت کا محتاج نہیں اور ریاستی معاملات میں آئین اور قانون کی بالادستی ہونی چاہیے
پریس کانفرنس کا سب سے اہم پہلو ان کا یہ اعلان تھا کہ موجودہ صورت حال صرف پہلا مرحلہ ہے اور مزید سیاسی انکشافات یا تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں،تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگلے مراحل میں کن افراد، اداروں یا سیاسی معاملات کے بارے میں بات کریں گے،
اب اصل سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی بندوبست کے بعد اگلے 60 دن میں امن و امان کی صورت حال میں کتنی بہتری آتی ہے، تحریک انصاف اپنی سیاسی حکمت عملی کس طرح تبدیل کرتی ہے اور فیصل واوڈا جن مزید مراحل کا ذکر کر رہے ہیں، ان کی تفصیلات کب سامنے آتی ہیں،ان سوالات کے جوابات ہی واضح کریں گے کہ ان کی پریس کانفرنس محض سیاسی تنبیہ تھی یا آنے والی تبدیلیوں کا پیش خیمہ





