Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

برطانیہ میں اسقاطِ حمل کے مرکز کے باہر خاموش دعا بھی قانونی مقدمے کا سبب، مسیحی خاتون نے نئے الزامات مسترد کر دیے

برطانیہ میں اسقاطِ حمل کے مرکز کے باہر خاموش دعا بھی قانونی مقدمے کا سبب، مسیحی خاتون نے نئے الزامات مسترد کر دیے

برطانیہ میں مسیحی سماجی کارکن ازابیل وانگ اسپرُوس نے اسقاطِ حمل کے ایک مرکز کے قریب خاموشی سے دعا کرنے پر اپنے خلاف عائد نئے فوجداری الزامات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے,ان کا کہنا ہے کہ ملک میں عوامی مقامات پر مذہبی اظہار کی آزادی محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور عام شہریوں میں یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ کہیں خاموش دعا کرنا بھی قانونی کارروائی کا سبب نہ بن جائے
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز ڈیجیٹل کو انٹرویو دیتے ہوئے ازابیل نے برطانیہ کی موجودہ صورت حال کو ’’آرویلین‘‘ قرار دیا،یہ اصطلاح جارج آرویل کے ناولوں سے ماخوذ ہے اور عموماً ایسے ماحول کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں ریاستی نگرانی، سخت ضابطوں اور اظہار پر پابندیوں کے باعث شہری آزادیوں کو خطرہ لاحق ہو،ازابیل کے مطابق، معاشرے میں عدم برداشت کو فروغ ملتا دکھائی دے رہا ہے
ازابیل برطانیہ کی تنظیم مارچ فار لائف کی شریک ڈائریکٹر ہیں، جو اسقاطِ حمل کی مخالفت کرتی ہے،انہیں انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں اسقاطِ حمل کے ایک مرکز کے قریب خاموش دعا سے متعلق نئے الزامات کا سامنا ہے،جنوری میں انہوں نے ان الزامات کا اعتراف کرنے سے انکار کیا،ان کے وکلا کے مطابق، یہ مقدمہ مذہبی آزادی اور اسقاطِ حمل کے مراکز کے قریب لوگوں کے طرزِ عمل کو منظم کرنے کے حکومتی اختیار کی حدود سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے
یہ معاملہ ان کی سابقہ قانونی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے،فاکس نیوز ڈیجیٹل کے مطابق، ازابیل نے اس سے پہلے پولیس کے خلاف غیر قانونی گرفتاری اور غیر قانونی حراست کے دعووں پر 13,000 برطانوی پاؤنڈ کا عدالتی کارروائی سے باہر تصفیہ حاصل کیا تھا،یہ تصفیہ ان کی سابقہ گرفتاریوں سے متعلق تھا، جب انہوں نے اسقاطِ حمل کے ایک مرکز کے قریب خاموشی سے دعا کی تھی
اس مقدمے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ مذہبی آزادی اور اسقاطِ حمل کے مراکز کے قریب آنے والے افراد کے تحفظ کے درمیان قانونی حد کہاں قائم کی جائے،اسقاطِ حمل کے حامیوں اور مراکز کے تحفظ پر زور دینے والے حلقوں کے لیے ان مقامات پر ہراسانی اور دباؤ سے تحفظ اہم مسئلہ ہے، جبکہ مذہبی آزادی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ کسی شخص کو محض خاموشی سے دعا کرنے پر سزا کا سامنا نہیں ہونا چاہیے، بشرطیکہ اس کا عمل دوسروں کو ہراساں کرنے یا قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہ آتا ہو
ازابیل کے خلاف نئے مقدمے میں الزامات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت کرے گی،تاہم، یہ معاملہ برطانیہ میں مذہبی اظہار، عوامی مقامات پر شہری آزادیوں اور اسقاطِ حمل کے مراکز کے تحفظ کے لیے نافذ پابندیوں کے درمیان توازن پر جاری بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے

قومی خبریں سے مزید