Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

روس نے نیٹو پر حملہ کیا تو بھرپور فوجی جواب دیا جائے گا، نیٹو کمانڈر کی سخت وارننگ

روس نے نیٹو پر حملہ کیا تو بھرپور فوجی جواب دیا جائے گا، نیٹو کمانڈر کی سخت وارننگ

نیٹو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر امریکی فضائیہ کے جنرل الیکسس گرینکیوچ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر ماسکو نے نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ کیا تو اتحاد کی افواج حملے میں شامل فوجی دستوں ہی نہیں بلکہ انہیں مدد، رسد اور ہدایات فراہم کرنے والے نظام کو بھی نشانہ بنائیں گی انہوں نے کہا کہ نیٹو کسی جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے یہ بیان 12 اکتوبر 2026 کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہونے والے سکیورٹی فورم کے دوران سامنے آیا
نیٹو کمانڈر نے واضح کیا کہ اتحاد کا دفاعی منصوبہ 3 بنیادی مراحل پر مشتمل ہے پہلے مرحلے میں دشمن کے حملے کو روکنا، دوسرے مرحلے میں اس کی پیش قدمی کو محدود کرنا اور تیسرے مرحلے میں ضرورت پڑنے پر اس کی جنگی صلاحیت کو تباہ کرنا شامل ہے ان کے مطابق مقصد یہ ہوگا کہ نیٹو کے کسی بھی رکن ملک پر حملہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی جائے
یورپی ممالک میں روس کی مبینہ خفیہ کارروائیوں کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے یورپی حکومتوں نے ماسکو پر تخریب کاری، آگ لگانے کے واقعات، ڈرونز کی غیر مجاز پروازوں اور سائبر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں روس ان الزامات میں ملوث ہونے کی تردید کرتا رہا ہے نیٹو کے مطابق ان واقعات نے اتحاد کے رکن ممالک میں سلامتی کے خدشات بڑھا دیے ہیں
یہ کشیدگی یوکرین میں جاری جنگ کے پس منظر میں سامنے آئی ہے روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد یورپ میں سلامتی کی صورت حال تبدیل ہو گئی نیٹو نے اپنی 2022 کی تزویراتی دستاویز میں روس کو اتحاد کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے رواں ماہ کہا تھا کہ روس کا کسی یورپی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں اور وہ یورپی ممالک کے ساتھ پُرامن تعلقات چاہتا ہے تاہم یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ روس کی یقین دہانیوں کے باوجود احتیاط اور دفاعی تیاری ضروری ہے ماسکو کا مؤقف ہے کہ روس کو مغربی ممالک کی جانب سے اپنی سلامتی کے لیے خطرات لاحق ہیں
نیٹو کمانڈر نے اپنے بیان میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحاد کے اجتماعی دفاع کے عزم پر پیدا ہونے والے خدشات کو بھی کم کرنے کی کوشش کی انہوں نے جولائی میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں وہاں امریکی صدر کی جانب سے اتحاد کے لیے حمایت کا اظہار محسوس ہوا تھا
نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع کا اصول یہ ہے کہ ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو پورے اتحاد کے خلاف حملہ تصور کیا جا سکتا ہے اسی اصول کے تحت اتحاد کے ممالک ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہوتے ہیں، اگرچہ کسی بھی ردعمل کی نوعیت حالات اور متعلقہ فیصلوں پر منحصر ہوتی ہے
موجودہ صورت حال میں نیٹو کی سخت وارننگ کا مقصد روس کو ممکنہ حملے سے باز رکھنا اور رکن ممالک کو یقین دلانا ہے کہ اتحاد ان کے دفاع کے لیے تیار ہے تاہم روس اور نیٹو کے درمیان براہ راست فوجی تصادم کا خطرہ پورے یورپ کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ دونوں جانب بڑی فوجی قوت اور جوہری ہتھیار موجود ہیں
جنرل گرینکیوچ نے کہا کہ وہ نیٹو کے تقریباً 1 ارب شہریوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اتحاد اپنے دفاعی منصوبوں سے آگاہ ہے اور انہیں نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ان کے بیان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ نیٹو جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر اس کے کسی رکن ملک پر حملہ کیا گیا تو وہ بھرپور دفاعی کارروائی کرے گا

قومی خبریں سے مزید