یمن میں جنگ پھیلنے کا خطرہ، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور
یمن میں حوثی تحریک کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملوں میں جانی نقصان اور سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ان حملوں کے بعد سعودی عرب کی جانب سے جوابی کارروائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس سے یمن کی جنگ ایک وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثی تحریک اس حکومت کی مخالف ہے اور ایران کے ساتھ اس کے سیاسی اور تزویراتی تعلقات ہیں۔ حوثیوں کے حملوں سے سعودی عرب کی سلامتی، شہریوں کی زندگیوں اور ہوائی سفر کو خطرات لاحق ہوئے ہیں ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کے بعد متعدد پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں
سعودی عرب کی جانب سے سخت جوابی کارروائی کے امکانات کے درمیان ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے گفتگو میں خبردار کیا کہ یمن میں فوجی کارروائی سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے ایران نے حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی
حوثی تحریک کو مکمل طور پر ایران کے تابع قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اس کی اپنی قیادت اور سیاسی ترجیحات ہیں تاہم ایران کے ساتھ اس کے نظریاتی اور علاقائی مفادات میں مماثلت پائی جاتی ہے اسی وجہ سے ایران کو مذاکرات میں شامل کرنے سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو مدد مل سکتی ہے
اس معاملے میں پاکستان بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے سکتا ہے عمان بھی ممکنہ ثالث کے طور پر اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور حوثی تحریک کے ساتھ بھی رابطے موجود ہیں
یمن کا تنازع کئی برسوں سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کی معیشت، بنیادی ڈھانچے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے طویل لڑائی نے لاکھوں افراد کو انسانی امداد کا محتاج بنایا ہے اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف یمن اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے
امریکا نے بھی یمن میں دوبارہ فوجی مداخلت کا امکان ظاہر کیا ہے تاہم مزید بیرونی فوجی کارروائیاں تنازع کو بڑھا سکتی ہیں علاقائی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ جنگ کو پھیلنے سے روکنے اور سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں
کشیدگی کم کرنے کے لیے پہلا قدم سعودی عرب اور یمن کی سلامتی کو یقینی بنانا ہونا چاہیے ہوائی اڈوں اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کی جائے، تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنے کا موقع مل سکے
یمن میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کی قیادت خود یمنی عوام اور ان کے نمائندے کریں ملک کے مختلف قبائل، سیاسی گروہوں اور برادریوں کو امن عمل میں شامل کرنا ہوگا، تاکہ کوئی ایسا معاہدہ نہ ہو جو صرف چند فریقوں کے مفادات کا تحفظ کرے اور دوسرے گروہوں کو نظرانداز کر دے
سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان تنازع کا فوجی حل تلاش کرنے کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینا پورے خطے کے مفاد میں ہے اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو یمن کی جنگ ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے پاکستان، ایران، عمان اور دیگر مسلم ممالک کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کریں اور یمن کے عوام کو مزید تباہی سے بچانے میں کردار ادا کریں



