Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فرانسیسی خلا باز 235 دن خلا میں گزار کر زمین پر واپس، بولیں یہاں کوئی سرحدیں اور تقسیم نظر نہیں آتی

فرانسیسی خلا باز 235 دن خلا میں گزار کر زمین پر واپس، بولیں یہاں کوئی سرحدیں اور تقسیم نظر نہیں آتی

فرانس کی خلا باز صوفی اَدینو 235 دن خلا میں گزارنے کے بعد زمین پر واپس آ گئی ہیں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر تقریباً 8 ماہ گزارنے کے بعد جرمنی پہنچنے پر انہوں نے کہا کہ خلا سے زمین کو دیکھنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس سیارے پر کوئی سرحدیں یا تقسیم دکھائی نہیں دیتی، بلکہ یہ ایک قیمتی سیارہ ہے جس پر ہم سب کا مشترکہ حق ہے
44 سالہ صوفی اَدینو جمعرات کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اتریں۔ وہ ڈریگن خلائی کیپسول کے ذریعے 4 خلا بازوں پر مشتمل عملے کے ساتھ واپس آئیں ہفتے کے روز جرمنی کے شہر کولون میں یورپی خلائی ایجنسی کے تربیتی مرکز پہنچنے پر انہوں نے اپنے خلائی سفر کے تجربات بیان کیے گفتگو کے دوران وہ کئی مرتبہ جذباتی ہو گئیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آ گئے
صوفی اَدینو نے کہا کہ خلا میں قیام کے دوران انہوں نے انسانی جذبات کی ہر کیفیت محسوس کی، خوشی کے انتہائی لمحات سے لے کر مشکل ترین حالات تک ان کے مطابق زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر بلندی پر موجود خلائی اسٹیشن سے انہوں نے زمین کو دیکھا تو انہیں ملکوں کے درمیان سرحدیں اور انسانوں کے درمیان تقسیم نظر نہیں آئی انہیں صرف ایک خوب صورت سیارہ دکھائی دیا جسے پوری انسانیت مشترکہ طور پر استعمال کرتی ہے
ان کا کہنا تھا کہ خلا سے زمین کو دیکھنے کا تجربہ انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دنیا کے لوگوں کو اپنی قومیت، پس منظر اور شناخت کے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایسے منصوبوں پر متحد ہونا چاہیے جو سب کے لیے فائدہ مند ہوں ان کے مطابق خلا میں جانے کا تجربہ صرف سائنسی مہم نہیں بلکہ انسانوں کے درمیان تعاون اور ایک دوسرے پر انحصار کی اہمیت سمجھنے کا موقع بھی ہے
صوفی اَدینو نے بتایا کہ خلا میں قیام کے دوران انہوں نے زمین پر روشنیوں سے جگمگاتے شہروں، سمندروں، بلند پہاڑوں اور قدرتی مناظر کو دیکھا لیکن خلا میں رہنے کی خوب صورت تصاویر اور ویڈیوز کے پیچھے مشکلات بھی موجود ہوتی ہیں ان کے مطابق عملے کے ارکان نے خوشی اور پریشانی دونوں طرح کے لمحات ایک ساتھ گزارے اور ایک دوسرے کا سہارا بنے
انہوں نے کہا کہ کبھی کوئی ساتھی زیادہ کام کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی حالت میں ہوتا ہے، لیکن کبھی اسی شخص کو خود دوسروں کے سہارے کی ضرورت پڑ جاتی ہے ان کے مطابق خلا میں کوئی بھی شخص اکیلا ہیرو نہیں ہوتا، کیونکہ ہر انسان کو کسی نہ کسی موقع پر دوسرے کی مدد درکار ہوتی ہے
صوفی اَدینو نے خلائی کیپسول کے ذریعے واپسی کے مشکل مرحلے کا بھی ذکر کیا ان کے مطابق بحرالکاہل میں اترنے کے دوران کیپسول کو تقریباً 25 منٹ تک تیز لہروں کا سامنا کرنا پڑا جب امدادی عملے نے انہیں کیپسول سے باہر نکالا تو انہوں نے مذاقاً کہا کہ انہیں دوبارہ خلا میں بھیج دیا جائے کیونکہ وہاں رہنا زمین پر واپس آنے کے مقابلے میں آسان محسوس ہو رہا تھا
تاہم خلا سے زمین پر واپسی جسم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے طویل عرصے تک کم کشش ثقل میں رہنے کے باعث ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں، پٹھوں کی طاقت گھٹ سکتی ہے، دل اور دوران خون کا نظام متاثر ہو سکتا ہے اور نظر سے متعلق مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں زمین پر واپس آنے کے بعد جسم کو دوبارہ کشش ثقل کے مطابق کام کرنے کی عادت ڈالنا پڑتی ہے
صوفی اَدینو کو اپنی سابقہ جسمانی حالت بحال کرنے کے لیے تقریباً 3 ہفتے کے بحالی پروگرام سے گزرنا ہوگا جرمنی پہنچنے پر وہ جسمانی طور پر کمزور دکھائی دیں اور یورپی خلائی ایجنسی کے 2 ڈاکٹروں نے انہیں مدد فراہم کی
ان کے اس مشن کی ایک اور اہم کامیابی یہ تھی کہ وہ خلا میں چہل قدمی کرنے والی پہلی فرانسیسی خاتون خلا باز بنیں انہوں نے 18 اگست، 25 اگست اور 1 ستمبر کو خلائی اسٹیشن کے باہر 3 مرتبہ چہل قدمی کی، جس کے دوران انہیں اسٹیشن سے باہر مخصوص سائنسی اور تکنیکی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا
صوفی اَدینو کا 235 دن تک مسلسل مدار میں رہنا بھی یورپی خلا بازوں کے لیے ایک ریکارڈ ہے ان کا کہنا ہے کہ خلا میں رہنے سے انہیں زمین کی عام مگر قیمتی نعمتوں، مثلاً تازہ ہوا، چہرے پر محسوس ہونے والی ہوا اور زمین پر زندگی کے معمولات کی اہمیت کا زیادہ احساس ہوا
ان کے تجربات کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ زمین انسانیت کا مشترکہ گھر ہے خلا سے نظر آنے والے اس سیارے پر انسانوں کی بنائی ہوئی سیاسی سرحدیں دکھائی نہیں دیتیں، لیکن زمین پر رہنے والے تمام انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ان کے مطابق بڑے خواب پورے کرنے کے لیے چھوٹے قدم اٹھانا ضروری ہے اور مشکل اہداف حاصل کرنے کے لیے باہمی تعاون اور ایک دوسرے کا ساتھ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں

قومی خبریں سے مزید