اوباما دور کی مقرر کردہ جج کا فیصلہ، سیئٹل کی DEI پالیسیوں پر سفید فام ملازم کا مقدمہ آگے بڑھ سکے گا
امریکی وفاقی اپیل عدالت کے تین رکنی پینل نے متفقہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سیئٹل کی نسلی مساوات اور تنوع سے متعلق پالیسیوں سے متاثر ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک سفید فام ملازم کا مقدمہ جیوری کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے
عدالت نے یہ فیصلہ نہیں دیا کہ سیئٹل کے DEI پروگرام آئین یا وفاقی امتیازی سلوک کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں،ججوں نے صرف یہ قرار دیا کہ ملازم کے الزامات اتنے ہیں کہ جیوری یہ طے کر سکتی ہے کہ ان پالیسیوں کے نفاذ سے کام کی جگہ پر نسل کی بنیاد پر ایسا مخالفانہ ماحول پیدا ہوا یا نہیں جو وفاقی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہو
فیصلہ لکھنے والی جج میری مورگیا، جنہیں سابق صدر باراک اوباما نے مقرر کیا تھا، نے واضح کیا کہ نسلی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے تربیتی پروگرام بذاتِ خود امتیازی نہیں ہوتے،تاہم ان کے مطابق اگر نسل کو مدنظر رکھنے والی تربیت کام کی جگہ پر نسل کی بنیاد پر مخالفانہ ماحول پیدا کرے تو وہ وفاقی قانون Title VII کی خلاف ورزی بن سکتی ہے
اس فیصلے کے بعد سیئٹل کی نسل پر مبنی DEI پالیسیوں کے خلاف ملازم کا مقدمہ آگے بڑھنے کی راہ کھل گئی ہے، جبکہ ان پروگراموں کی آئینی حیثیت کا بڑا سوال ابھی عدالت کے سامنے حل طلب ہے





