Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

میر رضا علی قتل کیس، عدالتی کمیشن کی 30 روزہ مدت ختم ہونے پر کارروائی مؤخر

میر رضا علی قتل کیس، عدالتی کمیشن کی 30 روزہ مدت ختم ہونے پر کارروائی مؤخر

کراچی کے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی 30 روزہ مدت پیر کو ختم ہوگئی، جس کے باعث کمیشن کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی سندھ حکومت کی جانب سے کمیشن کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست صوبائی کابینہ کے فیصلے کی منتظر ہے
عدالتی کمیشن کے حکم نامے کے مطابق سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے مدت میں توسیع کی سمری منظور کرکے صوبائی کابینہ کو بھیج دی ہے کابینہ کا اجلاس 1 اکتوبر کو متوقع ہے، اس لیے کمیشن نے پیر کی کارروائی 2 اکتوبر صبح 10 بجے تک ملتوی کردی ہے
حکم نامے کے مطابق اگر کابینہ نے کمیشن کی مدت میں توسیع نہ کی تو مزید گواہوں کو طلب نہیں کیا جائے گا اور اب تک ریکارڈ کیے گئے بیانات کی بنیاد پر رپورٹ تیار کرکے پیش کردی جائے گی اگر توسیع منظور ہوگئی تو گواہوں کو نئے نوٹس جاری کیے جائیں گے جبکہ 3 سینئر پولیس افسران کو بھی سوالنامہ بھیجا جائے گا
کمیشن نے ہفتے کے روز مقتول کے اہلخانہ کی وہ درخواست بھی مسترد کردی تھی جس میں کراچی پولیس چیف اور تفتیشی ٹیم کے سربراہ کو ذاتی حیثیت میں کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی گئی تھی اس سے قبل کمیشن نے پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ کی دوبارہ بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست بھی مسترد کردی تھی کمیشن کا کہنا تھا کہ کیس کے حقائق اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے اس کے پاس کافی معلومات موجود ہیں
میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی ابتدائی طور پر تفتیش میں خودکشی کا امکان بھی زیر غور آیا، تاہم بعد میں لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کو پشت پر گولی لگی تھی اور موت کے حالات خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے
واقعے کے بعد میر رضا علی کے اہلخانہ نے تفتیش پر تحفظات کا اظہار کیا اور تحقیقات کی براہ راست نگرانی کا مطالبہ کیا سندھ حکومت نے 23 اگست کو عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ قتل کی تفتیش غیر جانبدارانہ طریقے سے ہوئی یا نہیں اور میر رضا علی کی موت کے حالات کیا تھے
میر رضا علی کے اہلخانہ نے بعد میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے عدالتی کمیشن کے بجائے ایک آزاد اور مختلف اداروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی درخواست کی تھی عدالت نے 2 ستمبر کو درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہے

قومی خبریں سے مزید