Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں کاروبار اور عام صارفین کی معاشی سوچ میں بڑا فرق کیوں ہے؟

پاکستان میں کاروبار اور عام صارفین کی معاشی سوچ میں بڑا فرق کیوں ہے؟

پاکستان میں حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری اداروں کے مقابلے میں عام صارفین ملکی معیشت کے بارے میں زیادہ مایوس ہیں ستمبر میں اسٹیٹ بینک اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے کاروباری اعتماد کے اشاریے کی سطح 49.1 رہی، جبکہ تیسری سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد کا اشاریہ 33.6 ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم ماہرین کے مطابق دونوں اشاریوں کو براہ راست ایک دوسرے کے مقابلے میں رکھنا درست نہیں کیونکہ ان کی پیمائش کا طریقہ مختلف ہے
معاشی ماہرین کے مطابق کاروباری اعتماد کے اشاریے میں 50 کو غیر جانبدار سطح سمجھا جاتا ہے اس لحاظ سے 49.1 کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری اعتماد ابھی غیر جانبدار سطح سے معمولی نیچے ہے دوسری طرف صارفین کے اعتماد کا اشاریہ مختلف طریقے سے تیار کیا جاتا ہے اور یہ تاریخی طور پر 30 کی دہائی میں رہتا آیا ہے اس لیے 33.6 کو 50 کے مقابلے میں رکھ کر یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ صارفین کا اعتماد 16 پوائنٹس کم ہے
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ کاروباری اور صارفین کے جائزوں میں شامل افراد ایک جیسے نہیں ہیں کاروباری اعتماد کا جائزہ تقریباً 2,000 بڑی رجسٹرڈ کمپنیوں پر مشتمل ہے، جن میں سے تقریباً 500 کمپنیوں کا ہر ماہ سروے کیا جاتا ہے اس میں بڑی کمپنیوں کی نمائندگی زیادہ ہے جبکہ چھوٹی دکانیں، محلے کے کاروبار اور چھوٹے و درمیانے درجے کے ادارے اس تصویر میں پوری طرح شامل نہیں ہوتے
بڑی کمپنیوں کے پاس بڑھتی ہوئی لاگت کو قیمتوں میں منتقل کرنے، شرح سود میں کمی سے فائدہ اٹھانے، خطرات سے بچاؤ کے اقدامات کرنے اور سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کرنے جیسے کئی راستے موجود ہوتے ہیں عام گھرانے اس کے برعکس بجلی، گیس، خوراک، کرایے اور ٹیکسوں کی بڑھتی ہوئی لاگت براہ راست برداشت کرتے ہیں
ماہرین کے مطابق کاروبار مستقبل کے معاشی حالات کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں جبکہ عام صارف اپنے روزمرہ تجربے کی بنیاد پر معیشت کو پرکھتا ہے گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی اور آمدنی میں کمی کے باعث پاکستانی گھرانوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے مہنگائی کی رفتار کم ہونے کے باوجود پہلے سے بڑھ جانے والی قیمتیں واپس کم نہیں ہوتیں، اس لیے لوگوں کو معاشی بہتری کا فائدہ فوری طور پر اپنی زندگی میں محسوس نہیں ہوتا
صنعتی شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق کم آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے عام صارفین پر دباؤ بڑھایا ہے درآمدات پر انحصار، عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ، صنعتی سرگرمیوں میں کمزوری، مہنگائی اور گھریلو بچت میں کمی نے بھی لوگوں کی مالی مشکلات میں اضافہ کیا ہے
صارفین کے اعتماد کے جائزے میں 1,000 افراد کو ٹیلی فون کے ذریعے شامل کیا گیا سروے کے مطابق صرف 10 فیصد صارفین نے کہا کہ وہ گھریلو خریداری کے حوالے سے خود کو مطمئن محسوس کرتے ہیں صوبوں کے درمیان بھی نمایاں فرق سامنے آیا، بلوچستان میں 31 فیصد افراد نے کہا کہ ملک درست سمت میں جا رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 14 فیصد تھی
دوسری طرف صارفین کے اعتماد کے اشاریے میں معمولی بہتری بھی دیکھی گئی یہ 0.4 پوائنٹس بڑھ کر 33.6 تک پہنچا جبکہ 24 فیصد افراد نے کہا کہ ملک درست سمت میں جا رہا ہے اگست 2024 میں یہ شرح 11 فیصد تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کی مجموعی مایوسی کے باوجود بعض معاشی توقعات میں بہتری آئی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، جائیداد میں سرمایہ کاری، گاڑیوں کی خریداری یا صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کو پوری آبادی کی معاشی حالت میں بہتری کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ان سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت معاشرے کے تمام طبقات کے پاس یکساں نہیں
حکومت اور اسٹیٹ بینک کے معاشی حکام سے بھی اس فرق پر رائے طلب کی گئی، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا

قومی خبریں سے مزید