Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

شریعہ کا نعرہ یا بدلتا ٹیکساس؟ ریپبلکن سیاست میں نئی آبادی کے بڑھتے سیاسی وزن نے بحث چھیڑ دی

شریعہ کا نعرہ یا بدلتا ٹیکساس؟ ریپبلکن سیاست میں نئی آبادی کے بڑھتے سیاسی وزن نے بحث چھیڑ دی
رپورٹ آفاق فاروقی

امریکا کی ریپبلکن سیاست میں شریعہ قانون کے خلاف اچانک تیز ہونے والی بیان بازی کو صرف مذہبی یا قانونی بحث کے طور پر دیکھنا ٹیکساس میں تیزی سے بدلتے ہوئے آبادیاتی اور سیاسی منظرنامے کو نظرانداز کرنا ہوگا،سینیٹر ٹیڈ کروز کا یہ کہنا کہ “شریعہ قانون کی امریکا میں کوئی جگہ نہیں” اور گورنر گریگ ایبٹ کا ٹیکساس میں شریعہ قانون پر مکمل پابندی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کے بڑے شہری مراکز پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو رہے ہیں
امریکی مردم شماری بیورو کے مطابق 2025 میں ٹیکساس کی آبادی 3 کروڑ 17 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ ریاست کی 40.9 فیصد آبادی ہسپانوی یا لاطینی پس منظر رکھتی ہے۔ 2020 سے 2025 کے درمیان ریاست کی مجموعی آبادی میں تقریباً 8.8 فیصد اضافہ ہوا
ٹیکساس کی طرف اندرونی نقل مکانی بھی اس تبدیلی کا ایک اہم حصہ ہے،مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق 2023 سے 2024 کے دوران ٹیکساس نے کسی بھی ریاست کے مقابلے میں سب سے زیادہ خالص اندرونی نقل مکانی حاصل کی، جبکہ اسی عرصے میں کیلیفورنیا اور نیویارک ان ریاستوں میں شامل تھے جہاں سے سب سے زیادہ لوگ دوسری ریاستوں کی طرف منتقل ہوئے
اس نقل مکانی کے پس منظر میں رہائش، روزگار، ٹیکس، کاروباری مواقع اور زندگی کے اخراجات جیسے عوامل اہم سمجھے جاتے ہیں،اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نیویارک، کیلیفورنیا اور دیگر ریاستوں سے آنے والے امریکیوں کے ساتھ مختلف تارک وطن اور نسلی و مذہبی برادریاں بھی ٹیکساس کے بڑے شہری مراکز میں اپنا حجم بڑھا رہی ہیں
مسلم امریکی برادری بھی اسی بدلتے ہوئے ٹیکساس کا حصہ ہے،تاہم شریعہ کے بارے میں ریپبلکن سیاست دانوں کی موجودہ بیان بازی اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے درمیان براہ راست وجہ اور اثر کا تعلق ثابت نہیں مگر ریپبلکن سمجھتے ہیں مینارٹیز کی بڑھتی تعداد ڈیموکریٹس کو ہی فائدہ پہنچاتی ہے ، سیاسی طور پر البتہ یہ بحث اس سوال کو ضرور نمایاں کرتی ہے کہ تیزی سے بدلتی آبادی والی ایک روایتی طور پر ریپبلکن ریاست میں مذہب، امیگریشن اور آئینی آزادیوں کے موضوعات کس طرح انتخابی سیاست کا حصہ بن رہے ہیں
مسلم امریکی رہنماؤں اور علماء کا مؤقف اس سیاسی بیانیے سے مختلف ہے،ان کے مطابق امریکا میں مسلمان جس شریعہ پر عمل کرتے ہیں، اس کا بنیادی تعلق عبادات، خوراک، خاندانی زندگی اور اخلاقی رہنمائی جیسے مذہبی معاملات سے ہے، نہ کہ امریکی آئین اور ریاستی عدالتی نظام کی جگہ کوئی متبادل قانونی نظام قائم کرنے سے
اسی لیے شریعہ کے خلاف سیاسی نعرے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکا میں ایک عام مسلمان کی مذہبی زندگی اور کسی ایسے تصور میں فرق کرنا ضروری ہے جس میں مذہبی قانون کو ریاستی قانون کا متبادل بنانے کی بات کی جائے،مسلم امریکی شہری رہنماؤں کے مطابق دونوں کو ایک سمجھنا خود مسلم امریکی آبادی کی حقیقت کو مسخ کرتا ہے
ٹیکساس میں یہ بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ ہسپانوی یا لاطینی آبادی اب ریاست کی تقریباً 41 فیصد ہے، جبکہ ریاست میں نئی آبادی کی آمد مسلسل جاری ہے،ایسے ماحول میں امیگریشن اور مذہبی شناخت کا سیاسی استعمال محض نظریاتی بحث نہیں رہتا بلکہ انتخابی سیاست کا اہم موضوع بن جاتا ہے
2026 کے انتخابات میں ٹیکساس سینیٹ کی دوڑ بھی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہی ہے،ریپبلکن کین پیکسٹن کے مقابلے میں ڈیموکریٹ جیمز تالاریکو میدان میں ہیں اور ریپبلکن سیاسی تنظیموں نے اس دوڑ میں بھاری مالی وسائل استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں
یوں ٹیکساس میں شریعہ کے خلاف تازہ سیاسی مہم کو ایک وسیع تر سوال کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، کیا یہ واقعی امریکی آئینی نظام کے تحفظ کی بحث ہے، یا تیزی سے بدلتی ہوئی آبادی، امیگریشن اور نئی اقلیتی برادریوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی وزن کے درمیان انتخابی سیاست کا ایک نیا محاذ؟ اس سوال کا جواب سیاسی جماعتوں کے بیانات سے زیادہ آنے والے انتخابی رویوں اور ووٹرز کے بدلتے رجحانات سے سامنے آئے گا

قومی خبریں سے مزید