نیتن یاہو کے خلاف احتجاج، غزہ کے مناظر نے امریکی نوجوانوں کی اسرائیل کے بارے میں سوچ بدل دی
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا، جن میں فلسطینیوں اور مسلمانوں کے علاوہ یہودی، عیسائی، سیکولر امریکی، اساتذہ، فنکار اور نوجوان کارکن بھی شامل تھے مظاہرین کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری تباہی پر خاموش رہنا اب ان کے لیے ممکن نہیں رہا
رپورٹ کے مطابق امریکا میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے بارے میں مختلف نسلوں کی سوچ میں نمایاں فرق سامنے آ رہا ہے مئی 2026 میں کیے گئے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق 18 سے 29 سال کی عمر کے صرف 18 فیصد امریکیوں نے اسرائیلی حکومت کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی، جبکہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے امریکیوں میں یہ شرح 47 فیصد تھی
اسی سروے میں 58 فیصد نوجوان امریکیوں نے فلسطینیوں کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی، جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے امریکیوں میں یہ شرح 47 فیصد تھی۔ تاہم نوجوانوں میں حماس کے لیے مثبت رائے رکھنے والوں کی شرح صرف 13 فیصد تھی اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے نوجوان امریکی فلسطینی عوام اور حماس کو ایک ہی چیز نہیں سمجھتے اور اسرائیلی حکومت کے اقدامات کو فلسطینیوں کے معاملے سے الگ دیکھ رہے ہیں
رپورٹ میں یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سیاسی ماہر شِبلی تلہامی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بڑی عمر کی امریکی نسل نے اسرائیل کے قیام، ہولوکاسٹ اور ابتدائی عرب اسرائیل جنگوں کے تاریخی پس منظر میں اسرائیل کو دیکھا، جبکہ نئی نسل نے غزہ کی جنگ کو اپنے موبائل فونز پر تباہ شدہ گھروں، بے گھر خاندانوں اور ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر کے ذریعے دیکھا ہے ان کے مطابق غزہ بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک اہم سیاسی تجربہ بن چکا ہے
امریکی یہودی برادری کے اندر بھی اسرائیلی حکومت اور یہودی شناخت کے تعلق پر بحث زیادہ نمایاں ہو رہی ہے۔ 2026 کے پیو سروے کے مطابق 83 فیصد امریکی یہودیوں نے اسرائیلی عوام کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی، لیکن اسرائیلی حکومت کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی شرح 47 فیصد تھی
نیویارک میں ہونے والے مظاہروں میں مختلف یہودی تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ بعض تنظیمیں اسرائیل کے وجود اور سلامتی کی حمایت کے ساتھ نیتن یاہو حکومت کی غزہ پالیسی کی مخالفت کرتی ہیں، جبکہ کچھ مظاہرین صہیونیت کو بھی مسترد کرتے ہیں ایک احتجاج کے دوران یہودی تنظیم یہودی وائس فار پیس کے زیر اہتمام مظاہرے میں پولیس نے 100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا
اقوام متحدہ کے اندر بھی نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر متعدد ممالک کے وفود نے واک آؤٹ کیا نیتن یاہو نے اسرائیل کی فوجی کارروائی کا دفاع کیا، نسل کشی کے الزامات مسترد کیے اور اپنے ناقدین پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا انہوں نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر یہود مخالف ہونے اور غلط بیانی کرنے کا الزام لگایا ممدانی نے جواب میں نیتن یاہو کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر اسرائیلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا میں اسرائیل اور فلسطین کا معاملہ اب صرف اسرائیل کی سلامتی یا اس کے قیام کی تاریخ تک محدود نہیں رہا بلکہ غزہ میں موجودہ جنگ، شہری ہلاکتوں، تباہی اور انسانی بحران بھی امریکی عوام کی بحث کا مرکزی حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم امریکی معاشرے میں اس معاملے پر اب بھی شدید سیاسی اور نظریاتی اختلاف موجود ہے اور عمر کے علاوہ جماعتی وابستگی اور سیاسی نظریات بھی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں






