Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایمنسٹی کا امریکی امیگریشن ادارہ ختم کرنے کا مطالبہ، ICE پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات

ایمنسٹی کا امریکی امیگریشن ادارہ ختم کرنے کا مطالبہ، ICE پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکا کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ادارے یعنی ICE کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اپنی نئی رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ امریکا میں تارکین وطن، پناہ کے متلاشی افراد اور پناہ گزینوں کے خلاف بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، حراست اور ملک بدری کی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیاں کی گئیں
ایمنسٹی کی 24 ستمبر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں 150 سے زیادہ افراد کی گواہیوں کو شامل کیا گیا ہے یہ بیانات مارچ سے جون 2026 کے دوران امریکا کے 4 بڑے شہروں میں جمع کیے گئے، جہاں وفاقی امیگریشن کارروائیاں بڑے پیمانے پر جاری رہیں۔ رپورٹ میں شکاگو، منی ایپلس، نیو اورلینز اور واشنگٹن کے علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا
رپورٹ میں ICE، بارڈر پیٹرول اور دیگر وفاقی اداروں پر نسلی امتیاز، بلاجواز گرفتاریوں اور حراست، ہراسانی، دھمکانے، طاقت کے غیر قانونی استعمال، پرامن مظاہروں کو دبانے، نگرانی اور حراستی مراکز میں غیر انسانی حالات سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ بعض واقعات میں طاقت کے مہلک استعمال کے ایسے شواہد بھی سامنے آئے جن کی مزید آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں
ایمنسٹی کے مطابق موجودہ امریکی امیگریشن نظام میں اصلاحات کے بجائے ICE کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو ختم کرکے نیا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امریکا کی امیگریشن پالیسی کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امیگریشن کے نفاذ میں نسلی امتیاز ختم کیا جائے، تارکین وطن کو بلاجواز حراست میں لینے کا سلسلہ روکا جائے اور وفاقی ایجنٹوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا میں امیگریشن انفورسمنٹ کے طریقہ کار پر دوبارہ شدید بحث جاری ہے رپورٹ کے مطابق ایک وینزویلا کے تارک وطن ولبیر گارسس پیریز کو ٹیکساس کے شہر آسٹن میں ICE ایجنٹ کی فائرنگ سے زخمی ہونے کے واقعے نے بھی امیگریشن حکام کے طریقہ کار پر نئے سوالات اٹھائے ہیں
اس سے قبل جنوری میں منی ایپلس میں 2 امریکی شہریوں رینی گڈ اور ایلکس پریٹی کی وفاقی ایجنٹوں کی فائرنگ سے ہلاکتوں کے بعد بھی ملک میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا ان واقعات نے امیگریشن کارروائیوں میں وفاقی ایجنٹوں کے اختیارات، طاقت کے استعمال اور نگرانی کے طریقہ کار پر بحث کو مزید نمایاں کیا
ICE امریکا میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کا اہم وفاقی ادارہ ہے اور اسے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد قائم کیا گیا تھا ایمنسٹی کے مطابق گزشتہ برسوں میں بھی اس ادارے کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور نگرانی کے فقدان سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ جنوری 2025 کے بعد امیگریشن کارروائیوں کا پیمانہ اور شدت نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے
ICE اور امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے رپورٹ میں لگائے گئے الزامات پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا

قومی خبریں سے مزید