Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

شہباز شریف کی محمود اچکزئی کو براہ راست مذاکرات کی دعوت، اپوزیشن کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سیاسی رابطہ

شہباز شریف کی محمود اچکزئی کو براہ راست مذاکرات کی دعوت، اپوزیشن کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سیاسی رابطہ

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دے دی ہے یہ پیش رفت اپوزیشن کی جانب سے اسلام آباد کے لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھا کر 4 اکتوبر کرنے کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آئی ہے
وزیراعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اچکزئی کو مذاکرات کے لیے دعوت دی ہے، تاہم تاحال اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اس دعوت کا کوئی جواب سامنے نہیں آیا پی ٹی آئی کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ محمود اچکزئی کو وزیراعظم کی دعوت موصول ہو چکی ہے
یہ پہلا موقع نہیں کہ دونوں جانب سے براہ راست رابطے کی کوشش کی گئی ہو اس سے قبل 11 ستمبر کو بھی وزیراعظم شہباز شریف نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پر آئینی مشاورت کے لیے محمود اچکزئی کو دعوت دی تھی اس دعوت کے بعد دونوں رہنماؤں کے دفاتر کے درمیان ملاقات طے کرنے کے لیے رابطے شروع ہوئے تھے
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے میں آئین کے آرٹیکل 213 کے تحت وزیراعظم کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرنا ہوتی ہے۔ وزیراعظم کو 3 نام تجویز کرنے ہوتے ہیں، جنہیں بعد میں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے
حالیہ سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے بڑھا کر 4 اکتوبر کردی ہے پی ٹی آئی کے مطابق اس فیصلے پر پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے اتفاق کیا اور مارچ اب پشاور سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے
محمود اچکزئی اپوزیشن کے مشترکہ سیاسی اتحاد کی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اس سے قبل پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ احتجاج اور سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کر چکے ہیں
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق بھی اس سے قبل وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان رابطے اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست ملاقات کی صورت میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے علاوہ موجودہ سیاسی کشیدگی اور احتجاجی سیاست سمیت دیگر معاملات بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے، تاہم فی الحال کسی باقاعدہ ملاقات یا مذاکرات کا حتمی شیڈول سامنے نہیں آیا

قومی خبریں سے مزید