Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کیوں کھینچ دیا؟ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک کی حکمت عملی نے حکومت کو اپنے ہی کنٹینروں میں گھیر دیا

پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کیوں کھینچ دیا؟ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک کی حکمت عملی نے حکومت کو اپنے ہی کنٹینروں میں گھیر دیا
رپورٹ آفاق فاروقی
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے بڑھا کر 4 اکتوبر کرنے کے فیصلے نے پاکستانی سیاست میں ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا یہ محض سکیورٹی دباؤ کے باعث پسپائی ہے یا پی ٹی آئی نے احتجاج کو ایک ہفتہ آگے لے جا کر حکومت کے خلاف ایک مختلف سیاسی حکمت عملی اختیار کی ہے
سیاسی حلقوں میں زیرِبحث ایک اہم تجزیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ حساب لگایا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی کو پہلے ہی کنٹینروں، رکاوٹوں، سکیورٹی اہلکاروں اور مختلف پابندیوں کے حصار میں لے لیا ہے،حکومت کی طرف سے رینجرز کی تعیناتی 5 اکتوبر تک منظور کی گئی ہے، جبکہ راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں بھی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں
اس تجزیے کے مطابق اگر 27 ستمبر کا احتجاج ملتوی کرکے 4 اکتوبر تک لے جایا جائے تو حکومت کے سامنے ایک عجیب سیاسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے،اسے 27 ستمبر کے بعد شہر کے راستے معمول پر لانے، کنٹینر ہٹانے اور سکیورٹی واپس لینے میں مشکل پیش آئے گی کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ چند دن بعد دوبارہ احتجاج کا امکان موجود ہے،یوں پی ٹی آئی سڑکوں پر موجود نہ ہوتے ہوئے بھی حکومت کو دارالحکومت میں طویل عرصے تک غیر معمولی سکیورٹی اور رکاوٹیں برقرار رکھنے پر مجبور کر سکتی ہے
اس سوچ کا دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ سیاسی ہے،اگر اسلام آباد، جو ملک کا دارالحکومت ہے، اور اس کے ساتھ راولپنڈی، جہاں ملک کا فوجی ہیڈکوارٹر واقع ہے، کئی دن تک کنٹینروں اور سکیورٹی حصار میں رہتے ہیں تو پی ٹی آئی اس صورتحال کو حکومت کی انتظامی اور سیاسی کمزوری کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر سکتی ہے،یعنی احتجاج کرنے والوں کو شہر بند کرنے کی ضرورت نہیں، حکومت خود احتجاج کے خوف سے شہر بند رکھے اور اس کا سیاسی نقصان بھی حکومت ہی کے حصے میں آئے
یہی وہ نکتہ ہے جسے بعض غیر جانب دار سیاسی مبصرین پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دے رہے ہیں،لانگ مارچ کو ختم نہیں کرنا، صرف اس کی تاریخ آگے بڑھا کر حکومت کے سکیورٹی لاک ڈاؤن کو طول دینا اور اسی دوران مذاکرات میں دباؤ بڑھانا
اس حکمت عملی کی بنیاد صرف قیاس پر نہیں بلکہ گزشتہ چند دنوں کے سیاسی رابطوں سے بھی جڑی ہوئی ہے،حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک چینل رابطے جاری رہے ہیں،20 ستمبر کو وزیر داخلہ محسن نقوی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کے درمیان ملاقات میں عمران خان کی صورتحال اور 27 ستمبر کے احتجاج پر بات ہوئی،حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ مارچ واپس لیا جائے تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے معاملات میں کچھ ریلیف کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے
24 ستمبر تک حکومت کا واضح مؤقف تھا کہ لانگ مارچ ملتوی کیے بغیر باضابطہ مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے،وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بیک چینل رابطے جاری ہیں لیکن باقاعدہ مذاکرات کے لیے مارچ کو مؤخر کرنا ہوگا
دوسری طرف پی ٹی آئی کے اندر سے مختلف آوازیں سامنے آ رہی تھیں،ایک رہنما نعیم حیدر پنجوتھا نے کہا کہ اگر حکومت تین بنیادی مطالبات تسلیم کرے تو مارچ مؤخر کیا جا سکتا ہے،ان میں چھ سے آٹھ ماہ کے اندر انتخابات، عمران خان سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی عدالتی تحقیقات شامل تھیں،لیکن پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے اسی وقت اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی تجویز پارٹی فورم پر زیرغور نہیں اور عمران خان کی منظوری کے بغیر مارچ ملتوی نہیں کیا جا سکتا
یہ اختلاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر اصل بحث صرف یہ نہیں تھی کہ مارچ کرنا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی تھی کہ کس وقت، کس دباؤ کے ساتھ اور کن شرائط پر احتجاج کو آگے بڑھایا جائے
ادھر حکومت بھی محض دفاعی پوزیشن میں نہیں تھی،ڈان کی رپورٹ کے مطابق پسِ پردہ رابطوں میں حکومت کی جانب سے اعتماد سازی کے بعض ممکنہ اقدامات کی بات ہوئی، جن میں عمران خان کو علاج کے لیے پمز منتقل کرنے، بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کرنے اور خاندان کو ملاقات کی اجازت دینے جیسے معاملات کا ذکر کیا گیا،حکومت نے ان تجاویز کی تردید کی، اس لیے انہیں طے شدہ حکومتی پیشکش کے بجائے پسِ پردہ مذاکرات سے متعلق دعووں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
اس پورے معاملے میں وقت سب سے اہم عنصر بن گیا ہے،حکومت چاہتی تھی کہ 27 ستمبر کا مارچ پہلے ہی ختم کرایا جائے تاکہ سکیورٹی دباؤ کم ہو اور مذاکرات کی راہ کھلے،پی ٹی آئی کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ حکومت کی شرط مان کر مارچ مکمل طور پر واپس لے لیتی تو اس کے پاس حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ختم ہو جاتا،چنانچہ 4 اکتوبر کی تاریخ ایک درمیانی راستہ بن سکتی ہے،احتجاج کی کال برقرار بھی رہے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے وقت بھی مل جائے
پی ٹی آئی کے لیے ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس دوران حکومت کی طرف سے کیے گئے غیر معمولی سکیورٹی اقدامات خود سیاسی موضوع بن چکے ہیں،اسلام آباد کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں، ایم ون کے راستے کی بندش، رینجرز کی تعیناتی، پنجاب میں دفعہ 144 اور بعض علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس محدود کرنے کی درخواستیں پہلے ہی منظرعام پر آ چکی ہیں
یوں 4 اکتوبر تک پہنچنے والا یہ ایک ہفتہ محض تاریخ کی تبدیلی نہیں بلکہ دونوں طرف کے سیاسی دباؤ کا امتحان بن گیا ہے،حکومت کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ 27 ستمبر کے بعد معمول کی صورت حال بحال کرے یا 4 اکتوبر کے خطرے کے پیش نظر سکیورٹی حصار برقرار رکھے،اگر کنٹینر اور غیر معمولی سکیورٹی برقرار رہتی ہے تو پی ٹی آئی اسے حکومت کے خلاف سیاسی دلیل کے طور پر استعمال کر سکتی ہے، اور اگر رکاوٹیں ہٹا دی جاتی ہیں تو حکومت کو دوبارہ 4 اکتوبر کے قریب اسی نوعیت کی تیاری کرنا پڑ سکتی ہے
اسی لیے بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک پی ٹی آئی کا اصل داؤ 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنا نہیں بلکہ حکومت کو 4 اکتوبر تک اپنے ہی بنائے ہوئے سکیورٹی حصار کا سیاسی بوجھ اٹھانے پر مجبور کرنا ہے
دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی نے مارچ اس لیے مؤخر کیا کیونکہ اس کے پاس اسلام آباد پہنچنے کی تیاری نہیں تھی،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے فیصلے کے بعد یہی مؤقف اختیار کیا، جبکہ پی ٹی آئی ذرائع نے اسے حکومتی دباؤ اور سکیورٹی انتظامات کے تناظر میں دیکھا ہے
اس طرح 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک کا یہ وقفہ بظاہر لانگ مارچ کا التوا ہے، لیکن سیاسی طور پر یہ دباؤ کی جنگ کو سڑک سے مذاکرات کی میز، اور احتجاج سے حکومت کے اپنے سکیورٹی انتظامات کی طرف منتقل کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے

قومی خبریں سے مزید