Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نیویارک میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی اہم بیٹھک، ایران سے رابطے کا راستہ بھی کھلا

نیویارک میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی اہم بیٹھک، ایران سے رابطے کا راستہ بھی کھلا

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے 24 ستمبر کو اہم سہ فریقی اجلاس کیا جس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پیش رفت، اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے اور سعودی عرب کو درپیش حوثی حملوں کی صورت حال پر غور کیا گیا، تاہم دستیاب سرکاری اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں ایران کو دفاعی اتحاد میں شامل کرنے یا ایران کے ساتھ مشترکہ مذاکرات کا کوئی باقاعدہ فیصلہ نہیں کیا گیا،سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے نیویارک میں سعودی مشن میں ملاقات کی،تینوں ملکوں نے معاہدے کے سیکریٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور تینوں ملکوں کے مسلح افواج کے سربراہان کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی تیاریوں پر بھی بات کی
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے بڑھ گئے ہیں،مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اصولی طور پر یہ طے کیا ہے کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا،رائٹرز کے مطابق آئندہ عسکری قیادت کے اجلاس میں سعودی عرب کی مدد کے طریقوں پر غور متوقع ہے، جبکہ پاکستان اور ترکی نے اب تک سعودی عرب کی جنگ میں براہ راست فوجی شرکت کا اعلان نہیں کیا
دوسری جانب اسی 24 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی ملاقات کی،پاکستانی حکومت کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورت حال، جنگ کے خاتمے، کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے پر بات کی،شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا جبکہ ایرانی صدر نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا
ملاقات کے بعد شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو مکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں اعتماد میں لیا ہے،دفاعی وزیر خواجہ آصف نے بھی صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان نے ایران سے اس معاہدے پر بات کی ہے اور مستقبل میں ایران کے اس اتحاد میں شامل ہونے کا امکان موجود ہے، تاہم اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل ابھی جاری ہے،اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کو فوری طور پر اتحاد کا رکن بنانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن پاکستان نے تہران کے لیے اس امکان کا دروازہ بند بھی نہیں کیا
ایرانی جانب سے بھی پاکستان کے ساتھ رابطے اہم رہے،ایرانی صدر پزشکیان نے 24 ستمبر کو اسحاق ڈار سے ملاقات کے علاوہ متعدد عالمی رہنماؤں سے بات چیت کی، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اسی روز اسحاق ڈار سے نیویارک میں ملاقات کی،ایرانی سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی رابطہ براہ راست بھی جاری ہے
یوں 24 ستمبر کی نیویارک سرگرمیوں سے ایک دلچسپ سفارتی تصویر سامنے آتی ہے،ایک طرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اپنے نئے دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے ادارہ جاتی اور عسکری ڈھانچہ بنا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان ایران کے ساتھ براہ راست سفارتی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے تہران کو اس اتحاد کے بارے میں اعتماد میں لے رہا ہے،فی الحال کوئی قابل اعتماد سرکاری اعلان یہ نہیں بتاتا کہ تینوں ممالک نے ایران کے ساتھ مشترکہ مذاکرات شروع کرنے یا اسے فوری طور پر اتحاد میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، لیکن شہباز شریف اور پزشکیان کی ملاقات اور ایران کے ساتھ جاری رابطے اس معاملے میں سفارتی راستہ کھلا رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید