اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر، خطاب شروع ہوتے ہی متعدد مندوبین کا واک آؤٹ
نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا سلسلہ جاری رکھے گا، تاہم ان کی تقریر شروع ہوتے ہی متعدد مندوبین اور اجلاس کے شرکا احتجاجاً ہال سے باہر نکل گئے
میڈیا مطابق نیتن یاہو ایسے وقت میں جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے جب غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات پر اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنقید اور بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا سامنا ہے
نیتن یاہو نے خطاب کے آغاز ہی میں ہال سے نکلنے والے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اور ’’اخلاقی بزدل‘‘ ابھی تک ہال میں موجود ہے تو وہ بھی باہر چلا جائے
فرانس، برطانیہ، اردن، شام، قطر اور ترکی سمیت یورپ اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کے رہنماؤں نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اسرائیل کی پالیسیوں اور اقدامات پر سخت تنقید کی تھی
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کی تقریر کا ایک اہم مقصد بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر ہونے والی شدید تنقید کا جواب دینا اور آئندہ اسرائیلی انتخابات سے چند ہفتے قبل عالمی فورم پر اپنے ملک کا دفاع کرنا تھا
نیتن یاہو کا اس بار نیویارک کا دورہ غیر معمولی طور پر مختصر تھا وہ جمعرات کی صبح نیویارک پہنچے اور اپنی تقریر کے چند گھنٹے بعد ہی دوبارہ اسرائیل روانہ ہوگئے ، ماضی میں وہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر دیگر عالمی رہنماؤں، خصوصاً امریکی صدر اور وزیر خارجہ سے ملاقاتوں کے لیے بھی وقت نکالتے رہے ہیں





