نیتن یاہو کی نیویارک آمد پر احتجاج کا طوفان، مختلف مقامات پر مظاہرے، 103 گرفتاریاں اور اقوام متحدہ میں درجنوں وفود کا واک آؤٹ
نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر نیویارک میں ان کے خلاف ایک ہی مقام پر نہیں بلکہ مختلف مقامات پر متعدد احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں فلسطینی، اسرائیلی، یہودی اور امریکی کارکنوں کے علاوہ سیاسی شخصیات اور معروف اداکار بھی شریک ہوئے،پولیس نے ایک بڑے احتجاج کے دوران 103 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ اقوام متحدہ کے اندر بھی درجنوں ممالک کے وفود نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی اجلاس سے باہر نکل گئے
سب سے نمایاں کارروائی اقوام متحدہ کے قریب فرسٹ ایونیو پر ہوئی جہاں یہودی تنظیم Jewish Voice for Peace اور نیویارک کے Democratic Socialists of America کی قیادت میں 400 سے زائد افراد نے دھرنا دیا،مظاہرین نے سڑک کا ایک حصہ بند کر دیا اور پولیس کے راستہ خالی کرنے کے احکامات نہ ماننے پر انہیں گرفتار کیا گیا،نیویارک پولیس کے مطابق 103 افراد کو بدامنی پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا اور بعد میں سب کو رہا کر دیا گیا،گرفتار ہونے والوں میں اداکارہ سوزن سارینڈن، ہنّا آئنبائنڈر، کامیڈین کالیب ہیرن، کارکن چیلسی میننگ، نیویارک سٹی کونسل کے رکن چی اوسے اور کانگریس کی امیدوار ڈاریالیزا ایویلا شیولیئر سمیت سیاسی و سماجی شخصیات شامل تھیں
اسی احتجاج میں نیویارک، نیو جرسی، پنسلوانیا اور کولوراڈو سے کانگریس کے امیدوار بھی موجود تھے،Jewish Voice for Peace نے کہا کہ احتجاج میں 400 سے زیادہ افراد شریک ہوئے، جبکہ منتظمین کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 9 منتخب عہدیدار یا انتخابی امیدوار شامل تھے
اس کے علاوہ فلسطینی Youth Movement اور The People’s Forum کی قیادت میں ایک الگ بڑا جلوس بھی نکالا گیا،اس میں ایک ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی اور برائنٹ پارک سے اقوام متحدہ کے قریب تک مارچ کیا،مظاہرین فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور نیتن یاہو کے دورے، غزہ میں جنگ اور اسرائیل کو امریکی فوجی حمایت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے
اس سے پہلے نیویارک کے ڈَگ ہیمرشولڈ پلازا میں بھی مختلف یہودی تنظیموں نے احتجاج کیا،اس اجتماع میں New York Jewish Agenda، T’ruah، J Street، New Jewish Narrative، New Israel Fund، Smol Emuni اور Partners for Progressive Israel سمیت تنظیمیں شامل تھیں،ان گروپوں میں بعض خود کو صہیونی یا اسرائیل نواز پس منظر رکھنے والی تنظیمیں قرار دیتی ہیں، لیکن نیتن یاہو کی موجودہ حکومت اور غزہ جنگ کی پالیسیوں کی مخالفت کرتی ہیں
یونین اسکوائر پر اسرائیلی تارکین وطن کی تنظیم UnXeptable نے بھی الگ مظاہرہ کیا، جس میں درجنوں افراد شریک ہوئے،مظاہرین نے “Vote him out” کے نعرے لگائے،وہاں ایک اسرائیلی خاتون نے یہ پیغام بھی اٹھا رکھا تھا کہ وہ صہیونی یہودی ہیں لیکن اسرائیلی حکومت کی نمائندہ نہیں،Israelis for Peace اور Friends of Standing Together نے بھی اسرائیلی قونصل خانے کے سامنے احتجاج کیا
یوں دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر نیویارک میں کم از کم چار نمایاں اور الگ مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں سامنے آتی ہیں،اقوام متحدہ کے قریب فرسٹ ایونیو کا بڑا دھرنا، برائنٹ پارک سے اقوام متحدہ تک بڑا مارچ، ڈَگ ہیمرشولڈ پلازا کا یہودی تنظیموں کا احتجاج اور یونین اسکوائر کا اسرائیلی تارکین وطن کا مظاہرہ،ان کے علاوہ شہر میں چھوٹے اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیاں بھی ہوئیں، اس لیے تمام مظاہروں کی ایک حتمی مجموعی تعداد بتانا فی الحال ممکن نہیں
احتجاج صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا،نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی ہال میں درجنوں وفود کے ارکان کھڑے ہو کر باہر نکل گئے،فلسطینی مشن نے پہلے ہی مختلف رکن ممالک کے مشنز سے اپیل کی تھی کہ نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر اجتماعی طور پر واک آؤٹ کیا جائے،نیتن یاہو نے باہر جانے والے نمائندوں کو “اخلاقی بزدل” قرار دیتے ہوئے باقی مندوبین کو بھی ہال سے نکل جانے کا طنزیہ چیلنج دیا
مختلف رپورٹس میں واک آؤٹ کرنے والے ممالک کی تعداد اور فہرست میں فرق ہے،اسرائیلی ذرائع نے بعد میں 77 ممالک کے وفود کو غیر حاضر یا خطاب کے آغاز پر ہال سے باہر جانے والوں میں شمار کیا، لیکن اس فہرست میں ایسے ممالک بھی شامل تھے جن کے نمائندے ممکن ہے پہلے ہی ہال میں موجود نہ ہوں،اس لیے اسے 77 ممالک کا باقاعدہ تصدیق شدہ واک آؤٹ کہنا درست نہیں ہوگا،آزاد رپورٹوں میں ترکی، ایران، پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا، برونائی، مالدیپ، میانمار، شمالی کوریا، ترکمانستان، ازبکستان اور کرغزستان سمیت متعدد ممالک کے وفود کے واک آؤٹ کا ذکر ہے، جبکہ دیگر ممالک کی نشستیں بھی خالی دکھائی دیں
برازیل کا وفد بھی نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ہال سے باہر چلا گیا،رائٹرز کی تصاویر میں فلسطینی وفد کے واک آؤٹ اور متعدد خالی نشستیں بھی واضح طور پر دکھائی گئیں
اس طرح نیتن یاہو کی نیویارک آمد پر احتجاج ایک واحد مظاہرے تک محدود نہیں رہا بلکہ مین ہٹن کے مختلف مقامات پر بیک وقت اور الگ الگ سیاسی و سماجی گروہوں کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ سامنے آیا،اس میں فلسطینی حامی گروہوں کے ساتھ ترقی پسند یہودی تنظیمیں، اسرائیلی تارکین وطن اور امریکی سیاسی کارکن بھی شامل تھے، جبکہ اقوام متحدہ کے اندر متعدد ممالک کے وفود کا واک آؤٹ اس احتجاج کا سفارتی پہلو بن گیا





