اٹلی میں تارکین وطن بچوں پر نئی پابندیاں، میلونی حکومت پر دائیں بازو کے ووٹروں کو خوش کرنے کا الزام
روم: اٹلی کی حکومت نے اسکولوں میں نئے آنے والے تارک وطن بچوں کی تعداد محدود کرنے اور تعلیمی اداروں میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر حکومت کو اگلے سال ہونے والے عام انتخابات سے قبل دائیں بازو کے ووٹروں کو متوجہ کرنے کی کوششوں کے الزامات کا سامنا ہے
دی گارڈین کے مطابق وزیراعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے ایک حکم نامے کے ذریعے کلاس رومز میں حال ہی میں اٹلی پہنچنے والے غیر ملکی بچوں کی تعداد محدود کرنے کی منظوری دی ہے،اسی حکم نامے میں اسکولوں میں برقع اور نقاب پہننے پر بھی پابندی شامل ہے
میلونی، جو دائیں بازو کی جماعت برادرز آف اٹلی کی سربراہ ہیں، نے حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ایسے “معقول اقدامات” قرار دیا جو معاشرے کو تقسیم کرنے کے بجائے تارک وطن بچوں کے انضمام میں مدد دیں گے
حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تارک وطن خاندانوں اور مسلمانوں کو سیاسی بحث کے مرکز میں لایا جا رہا ہے اور حکومت اگلے سال کے انتخابات سے پہلے دائیں بازو کے ووٹروں کی حمایت برقرار رکھنے کے لیے سخت گیر مؤقف اختیار کر رہی ہے
حکم نامے کے تحت اسکولوں میں نئے آنے والے بچوں کی تعداد پر حد مقرر کرنے کا مقصد تعلیمی نظام پر دباؤ کم کرنا اور زبان و تعلیم کے مسائل سے نمٹنا بتایا گیا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق اس پالیسی سے تارک وطن بچوں کی تعلیم اور معاشرے میں انضمام پر نئے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں





