قالیباف کا امریکہ کو طنز، 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.1 فیصد پر پہنچنے پر 1970 کی دہائی کی شرح سود کی دھمکی
واشنگٹن: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی معیشت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 5.1 فیصد سے تجاوز کرنا صرف آغاز ہے اور ایران امریکہ کو 1970 کی دہائی جیسی شرح سود، بلند پٹرول قیمتوں اور ڈیزل کی قلت کے دور میں واپس لے جائے گا
قالیباف نے 24 ستمبر کو X پر ایک پوسٹ میں امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کے 5.1 فیصد سے اوپر جانے پر لکھا، “ہیپی 5.1 فیصد 10Y امریکہ، مبارک ہو،جشن منائیں، یہ دو سال بعد کی منزل نہیں بلکہ فرش ہے”
ایرانی اسپیکر نے مزید طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر امریکہ ایران کو 1970 کی دہائی میں واپس لے جانا چاہتا تھا تو ایران بھی امریکہ کو اسی دور کی شرح سود، بلند پٹرول قیمتوں، ڈیزل کی قلت اور “بیل باٹم” کے دور کی طرف واپس لے جائے گا
قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.1 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے،مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ییلڈ 5.12 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ رائٹرز کے مطابق جمعرات کو یہ 5.1497 فیصد تک گئی، جو 2007 کے بعد بلند ترین سطح ہے
امریکی طویل مدتی بانڈز پر بڑھتی ہوئی ییلڈ کا تعلق افراط زر کے خدشات، بلند تیل کی قیمتوں، مضبوط معاشی سرگرمی اور امریکی حکومت کی بھاری قرض گیری سے جوڑا جا رہا ہے،30 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ بھی 5.44 فیصد سے اوپر جاچکی ہے
1970 کی دہائی کا حوالہ امریکی معیشت میں اس دور کے بلند افراط زر اور شرح سود کی طرف اشارہ ہے،امریکی سرکاری تاریخی اعداد کے مطابق 1970 کی دہائی کے بیشتر حصے میں 10 سالہ امریکی سرکاری بانڈ کی ییلڈ 6 سے 8 فیصد کے درمیان رہی اور بعد کے برسوں میں اس سے کہیں زیادہ ہوگئی
قالیباف کی پوسٹ کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید اقتصادی اور فوجی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے،ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے ممکنہ مرحلہ وار معاہدے پر بھی بات چیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں





