Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

قافلے دلدلوں میں جا ٹھہرے ، رہنما پھر بھی رہنما ٹھہرے ‎وزیراعظم کی امریکی دورے میں کاروباری ملاقاتیں یا مخصوص حلقوں کی نمائشی نشستیں؟ مسلم لیگی وفد کو روک دیا گیا،

قافلے دلدلوں میں جا ٹھہرے ، رہنما پھر بھی رہنما ٹھہرے
‎وزیراعظم کی امریکی دورے میں کاروباری ملاقاتیں یا مخصوص حلقوں کی نمائشی نشستیں؟ مسلم لیگی وفد کو روک دیا گیا،

نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورہ امریکہ کے دوران آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، توانائی، تعمیرات، آٹو موبائل اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد امریکی کاروباری افراد اور پروفیشنلز سے ملاقاتوں کو وزیراعظم آفس نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن جاری کی گئی تصاویر، ملاقاتوں میں شریک افراد اور ان کے پس منظر کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات نے اس سرکاری دعوے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں
وزیراعظم آفس کی 24 ستمبر کی پریس ریلیز کے مطابق شہباز شریف نے امریکہ میں مقیم آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، آٹو موبائل، توانائی، تعمیرات اور مختلف شعبوں سے وابستہ کاروباری شخصیات اور پروفیشنلز کے وفود سے ملاقاتیں کیں، انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ حکومت سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے،پریس ریلیز میں ایف بی آر اصلاحات، زراعت میں جدت اور برآمدات کے فروغ کو بھی اجاگر کیا گیا
لیکن ان ملاقاتوں کی جاری کردہ تصاویر کا جائزہ لینے والے پاکستانی کمیونٹی کے بعض ذرائع کے مطابق تصویر میں دکھائی دینے والے تمام افراد کو بڑے عالمی سرمایہ کار یا بڑے صنعتی منصوبوں کے نمائندے قرار دینا درست تصویر پیش نہیں کرتا
پہلے گروپ میں ممتاز پاکستانی امریکن ساجد تارڑ جو ان دنوں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب تصور کیے جاتے ہیں،میری لینڈ اور ورجینا اور اوہائیو میں مقیم اپنے ساتھیوں کے ساتھ وزیراعظم آفیس سے جاری تصاویر میں نظر آرہے ہیں ، ان افراد میں اوہائیو کے وہ امریکن پاکستانی امریکن بھی موجود تھے جنکے یہاں گزشتہ دنوں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بھی مدعو تھے اور جہاں وفاقی وزیر کا استقبال گھوڑوں پر بیٹھے افراد نے کیا تھا اور نیویارک کے قونصلر جنرل بھی گزشتہ دنوں تحریک انصاف نیویارک کے چند کارکنوں کے ہمراہ پہنچے تھے ، یہ افراد پاکستانی کمیونٹی کے عام کاروباری حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم وزیراعظم آفس کی پریس ریلیز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس گروپ کے ارکان پاکستان میں کتنی سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں، اور کون سا منصوبہ شروع کر رہے ہیں یا ان کی کمپنیوں اور سرمایہ کاری کا حجم کیا ہے؟
دوسرے گروپ میں ڈاکٹر بابر راؤ، جو پاکستانی امریکی ڈاکٹروں کی تنظیم APPNA کے صدر ہیں، اور ان کے ساتھ بعض دیگر ڈاکٹرز شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق اس گروپ میں APPNA کے حالیہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخاب میں ناکام رہنے والے ایک امیدوار ڈاکٹر ملی سمیت بعض دیگر ڈاکٹرز بھی موجود تھے، اس گروپ کے ارکان بنیادی طور پر طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی امریکی میڈیکل پروفیشنلز ہیں،
تیسرا گروپ ہیوسٹن سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیت تنویر احمد کا تھا، جن کے بارے میں دستیاب ریکارڈ کے مطابق امریکہ میں ان کے فوڈ چین فرنچائزز سمیت متعدد کاروباری مفادات ہیں، 2023 میں تنویر احمد نے پاکستان میں فوج کی سرپرستی میں چلنے والی یونیورسٹی NUTS کو نو ملین ڈالر عطیہ دینے کا اعلان کیا تھا ذرائع کے مطابق جس میں سے ابھی تک کچھ رقم ہی ادارے کو پہنچائ گئی ہے ، وزیراعظم سے انکی ملاقات میں کیلی فورنیا کے پاکستانی امریکن ڈاکٹر عمران شریف سمیت دیگر چند دوست نظر آرہے ہیں، تنویر احمد جو تحریک انصاف کا حصہ رہے ہیں اور تحریک انصاف کو فنڈ دینے کی بنیاد پر عمران خان سے بھی قربت رہنے کے باعث گزشتہ دنوں اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان صلح کرانے کی کوشش میں ناکام رہنے کے باعث تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر انہیں مختلف سیاسی حلقے مختلف القابات سے یاد کرتے ہوئے “ مرغی والا “ کے القاب سے پکارا اور لکھا جاتا ہے جبکہ تنویر احمد گزشتہ دنوں بھی ایک ایسے ہی وفد کے ہمراہ سرمایہ کاری کے عنوان سے پاکستان میں وزیراعظم اور دیگر پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں
وزیراعظم آفیس سے جاری کی گئی تصاویر میں ایک تصویر آئیووا میں رہائش پزیر عامر حنیف کی بھی ہے، جن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ آئیوا سے آئے تھے اور آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ تاہم دستیاب کھلے ذرائع میں اس نام سے ایسی واضح اور قابل اعتماد کمپنی کی شناخت نہیں ہو سکی جس کے حجم کی بنیاد پر انہیں بڑے سرمایہ کار یا کوئ بڑے آی ٹی ماہر کے طور پر بیان کیا جا سکے، وزیراعظم سے ملنے والے پاکستانی امریکن کے وفود میں نظر آنے والے تقریباً تمام افراد ایک عرصے سے یہاں امریکہ میں موجود پاکستانی سفارت کاروں کے حلقہ احباب اور سفارت و قونصلیٹس کی فہرست میں شامل ہیں اور امریکہ میں پاکستانی حکومتی نمائندوں کے لیے منقعد کی جانے والی تقریبات سے سرمایہ کاری کے نام پر منقعدہ سمینار کی بھی یہی افراد رونق نظر آتے ہیں، جبکہ وزیر اعظم آفیس کی پریس ریلیز میں اس بار ان افراد کو مصنوعی ذہانت ، آی ٹی اور دیگر ہنر کے ماہرین کے عنوان سے وزیراعظم سے ملوایا گیا ہے، اسی کے ساتھ گزشتہ روز پاکستانی وزیراعظم سے ملنے والوں میں امریکن پاکستانی بزنس مین ملک عباس بھی شامل تھے جنکے کے گھر دو روز قبل پاکستانی وزیراعظم کے مشیر رانا مشہود کھانے پر مدعو تھے اور جو اسلام آباد میں کلب روڈ پر ہلٹن ہوٹل تعمیر کررہے ہیں اور جس کی راہ میں سی ڈی اے بیوروکریٹک رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے ، بتایا جاتا ہے اس ہوٹل کی تعمیر پر پچاس ملین ڈالر سے زائد خرچ کیے جاچکے ہیں اور وزیراعظم سے ملک عباس کی ملاقات کے دوران مقامی مسلم لیگی نوجوان رہنما راجہ رزاق بھی موجود تھے جو ملک عباس کے رشتہ دار بھی ہیں ، یہاں یہ امر دلچسی سے ہر گز خالی نہیں جہاں وزیر اعظم سے مختلف ہنر کے ماہرین کے نام پر سفارت کاروں اور پاکستانی حکمرانوں کے دوستوں کو ملوایا جارہا تھا وہیں مسلم لیگ ن یو ایس اے کے صدر روحیل ڈار کی سربراہی میں وزیراعظم سے ملنے کی کوشش کرنے والے وفد کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث روک دیا گیا اور کہا گیا آپ وفد میں شامل افراد کی تعداد کم کریں تاہم روحیل ڈار نے وفد کی تعداد یہ کہکر کم کرنے سے انکار کردیا کہ اگر ہم ملیں گے تو تمام موجود افراد کے ساتھ ہی ملیں گے ، اور وزیراعظم سے ملنے کے لیے دئیے جانے والے سیکورٹی بیجز اتار دیئے ، بتایا جاتا ہے ، روحیل ڈار کی سرابراہی میں وزیراعظم سے ملنے کے لیے مسلم لیگی وفد میں پچیس سے تیس افراد شامل تھے ، اب کہا جارہا ہے وزیراعظم مقامی مسلم لیگی کارکنوں کو پچیس ستمبر کو اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد پاکستان روانہ ہونے سے قبل امریکہ میں اپنے کاروباری معتمد خاص اور فرنٹ مین سابق سینٹر کیپٹن ریٹائرڈ خالد شاہین کے گھر واقع نیوجرسی کھانے کی دعوت پر شرف دیدار بخشیں گے
یہاں دلچسپ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان کی غربت اور معاشی صورتحال کے بارے میں سرکاری اور آزاد تخمینوں میں نمایاں فرق موجود ہے، قومی غربت کی شرح بیالیس فیصد سے زائد بتائی جارہی ہے، جبکہ سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر نے اسی مدت کے لیے غربت کی شرح 43.5 فیصد نکالی ہے،ورلڈ بینک کے مختلف معیار کے تحت بھی پاکستان میں غربت کی شرح 40 فیصد سے زیادہ بتائی گئی ہے
معاشی ماہر ڈاکٹر حفیظ پاشا بھی حالیہ گفتگو میں 42 فیصد غربت اور مہنگائی برقرار رہنے کی صورت میں شرح 45 فیصد تک پہنچنے کے خدشے کا اظہار کر چکے ہیں
ایسے معاشی پس منظر میں اصل سوال یہ نہیں کہ وزیراعظم پاکستانی امریکیوں سے ملاقات کیوں کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان ملاقاتوں سے حقیقی سرمایہ کاری کتنی آ رہی ہے اور حکومت اس کا قابل پیمائش ثبوت کب پیش کرے گی؟
دستیاب پریس ریلیز میں نہ ملاقات کرنے والی کمپنیوں کے نام دیے گئے ہیں، نہ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت، نہ نئے معاہدوں کی تفصیل اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ کتنے منصوبوں پر باقاعدہ پیش رفت ہوئی ہے
پاکستان سے نیویارک آنے والے بعض صحافیوں اور مقامی پاکستانی صحافتی حلقوں نے بھی وزیراعظم کے دورے کی کوریج کے انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں،صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ نہ باقاعدہ میڈیا سینٹر نظر آیا، نہ پہلے کی طرح افسران اور متعلقہ حکام سے رابطہ آسان رہا اور نہ ہی صحافیوں کو معمول کے مطابق معلومات اور ملاقاتوں کے حوالے سے موثر رابطہ کاری فراہم کی گئی
اس پورے معاملے نے وزیراعظم کے دورہ امریکہ کی تشہیر اور اس کی عملی نوعیت کے درمیان فرق کا سوال پیدا کر دیا ہے،ایک طرف وزیراعظم آفس کی پریس ریلیز میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، توانائی، تعمیرات، آٹو موبائل اور سرمایہ کاری کے بڑے بڑے شعبوں کا ذکر ہے، دوسری طرف تصاویر اور ملاقاتوں میں نظر آنے والے افراد کے بارے میں یہ سوال موجود ہے کہ ان میں سے کتنے حقیقی بڑے سرمایہ کار ہیں، کتنے باقاعدہ پروفیشنلز ہیں اور کتنے پاکستانی کمیونٹی کے عام کاروباری یا ذاتی روابط رکھنے والے افراد ہیں
وزیراعظم کی امریکہ میں پاکستانی کاروباری اور پیشہ ور افراد سے ملاقاتیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر ان ملاقاتوں کو پاکستان میں نئی سرمایہ کاری اور معاشی تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تو اس کا اصل امتحان تصاویر یا پریس ریلیز نہیں بلکہ معاہدوں، سرمایہ کاری کی رقم، منصوبوں اور ان کے عملی آغاز سے ہوگا
اور یہی وہ بحث ہے جہاں وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے بارے میں سب سے بڑا سوال کھڑا ہوتا ہے،کیا پاکستان واقعی بڑے نئے سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے، یا چند روایتی پاکستانی امریکی چہروں کے ساتھ ملاقاتوں کو ایک بہت بڑی معاشی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید