Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

غزہ کی بحالی کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ

غزہ کی بحالی کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ

غزہ کی جنگ سے تباہ ہونے والے علاقوں کی ابتدائی بحالی کے لیے 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش کر دیا گیا ہے یہ منصوبہ 6 ماہ کے دوران 66 منصوبوں پر مشتمل ہوگا، جن میں عارضی رہائش، ملبہ ہٹانا، اسپتالوں کی مرمت، بنیادی سہولتوں کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنا شامل ہے
منصوبے کے مطابق غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 35.2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ مکمل بحالی اور تعمیر نو کے لیے آئندہ 10 سال میں تقریباً 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے ابتدائی مرحلے میں بجلی، پانی، سڑکوں اور سرحدی گزرگاہوں کی بحالی کے ساتھ اسپتالوں اور عارضی رہائش گاہوں پر توجہ دی جائے گی
منصوبے میں ملبے اور تباہ شدہ عمارتوں کو ہٹانے، غزہ میں عارضی رہائش فراہم کرنے اور 25 ہزار شمسی توانائی کے نظام نصب کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں اس کے علاوہ اہم تعمیراتی منصوبوں کے راستے میں موجود سرنگوں کو بند کرنے اور ایک کثیر ملکی سکیورٹی فورس کی تعیناتی کی تجویز بھی دی گئی ہے
غزہ کی انتظامیہ کے لیے قائم فلسطینی تکنیکی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے کہا ہے کہ تعمیر نو کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ پورے غزہ میں کی جائے گی۔ ان کے مطابق منصوبہ رفح سے شروع ہو کر خان یونس، وسطی علاقوں، غزہ شہر اور شمالی غزہ تک مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا فلسطینی آبادی کو غزہ سے باہر منتقل کرنے کی تجویز کی بھی مخالفت کی گئی ہے
تاہم منصوبے پر عمل درآمد کے راستے میں اہم سیاسی اور سکیورٹی رکاوٹیں موجود ہیں منصوبے کے منتظمین کے مطابق حماس کے غیر مسلح ہونے، غزہ کی حکمرانی ایک نئی فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق معاملات پر ابھی اتفاق رائے مکمل نہیں ہوا اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے باعث مذاکرات بھی مزید حساس قرار دیے جا رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ڈونر کانفرنس میں مختلف ممالک کی جانب سے غزہ کے لیے 17 ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے گئے تھے، تاہم اب تک تقریباً 280 ملین ڈالر منتقل کیے گئے ہیں نئی بحالی اسکیم کے لیے مزید عالمی مالی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
اسی دوران غزہ میں اسرائیلی حملے بھی جاری رہے مقامی طبی حکام کے مطابق خان یونس میں ایک گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے میں 2 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوئے اسرائیلی حکام نے ہلاک ہونے والے ایک شخص کو حماس کا سینئر مالی عہدیدار قرار دیا، جبکہ حماس کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال، اسرائیلی آبادکاری میں توسیع اور ممکنہ الحاق کی کارروائیاں 2 ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے درکار حالات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے

قومی خبریں سے مزید