Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

گولان ہمارا رہے گا : شام کے صدر کا یو این او میں خطاب

گولان ہمارا رہے گا : شام کے صدر کا یو این او میں خطاب

شام کے صدر احمد الشرعہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں شام کا حصہ ہیں اور شام اپنی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوگا انہوں نے اسرائیل کی جانب سے گولان پر قبضے اور اسے اسرائیل کا حصہ قرار دینے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی کوئی بھی کوشش قبول نہیں کی جائے گی
گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران شام سے قبضہ کیا تھا اور 1981 میں اسے اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان کیا اقوام متحدہ اس علاقے کو اب بھی شام کا مقبوضہ علاقہ قرار دیتا ہے اور اسرائیلی الحاق کو تسلیم نہیں کرتا
صدر الشرعہ نے اقوام متحدہ میں کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ امن کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور ایک ایسے منصفانہ امن کا خواہاں ہے جس میں تمام فریقوں کے حقوق محفوظ ہوں انہوں نے تاہم اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے شام میں تقریباً 500 فضائی حملے، 1,200 سے زیادہ دراندازیاں اور تقریباً 300 گرفتاریاں یا حراستیں کی گئی ہیں
اسرائیل نے شام کے صدر کے مؤقف کو مسترد کر دیا ہے اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ گولان اسرائیلی خودمختاری کا حصہ رہے گا اور اس حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جائے گا
دوسری جانب صدر الشرعہ نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سکیورٹی معاہدے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ممکنہ معاہدے سے متعلق تقریباً 90 فیصد معاملات پر پیش رفت ہو چکی ہے شام اور اسرائیل کے درمیان اب تک باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان 1974 کے جنگ بندی اور فوجی علیحدگی کے معاہدے کی بحالی بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہے
گولان کا معاملہ شام اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کا بنیادی حصہ ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے گولان کو اپنے ساتھ ضم کرنا تسلیم شدہ بین الاقوامی مؤقف نہیں، تاہم اسرائیل اسے اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے

قومی خبریں سے مزید