افغانستان سے دہشت گردی پر پاکستان اور طالبان میں کشیدگی بڑھ گئی
افغانستان سے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں کمی نہ آنے کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر پاکستانی سرزمین پر حملوں میں ملوث ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے
حالیہ دنوں میں پاکستانی فورسز نے افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، جس کے دوران افغان طالبان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ پاکستان نے اس سے قبل افغانستان کی جانب سے مبینہ طور پر آنے والے ڈرونز کو بھی مار گرایا تھا، جبکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں بھی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے گزشتہ ہفتے کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز پر ہونے والے حملے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اور شہری ہلاک و زخمی ہوئے، جس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دیا
پاکستان نے معاملہ عالمی سطح پر بھی اٹھایا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کوہاٹ دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملے کے ذمہ داروں اور ان کے معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا پاکستان نے سلامتی کونسل کو واضح کیا ہے کہ افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات کے خلاف وہ اپنے دفاع میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے افغانستان سے متعلق رابطہ گروپ کے اجلاس میں بھی پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی روکنے کے لیے ایک قابل تصدیق نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا چین کے علاوہ سعودی عرب اور قطر سمیت بعض مسلم ممالک نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں یہ مسئلہ نیا نہیں طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر مسلسل تشویش رہی ہے پاکستان کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغانستان میں پناہ گاہیں استعمال کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان ماضی میں پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں
تجزیے کے مطابق صرف فوجی کارروائی سے اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں فوری خطرات سے نمٹنے کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست مذاکرات، سرحدی تعاون اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کی ضرورت رہے گی خطے کے دیگر ممالک کے تعاون کے بغیر بھی افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے کا دیرپا حل مشکل ہوگا
پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کا بنیادی سوال یہی ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم گروہوں کو روکنے کے لیے عملی اور قابل تصدیق اقدامات کرتے ہیں یا نہیں جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ موجود ہے





