کینیڈا میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کے وعدے، کارنی کا امریکا پر انحصار کم کرنے پر زور

کینیڈا میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کے وعدے، کارنی کا امریکا پر انحصار کم کرنے پر زور

وزیراعظم مارک کارنی کی جانب سے ٹورنٹو میں منعقد کیے گئے پہلے کینیڈا سرمایہ کاری اجلاس میں ملک میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کے وعدے سامنے آئے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا مقصد مجموعی طور پر 1 ٹریلین ڈالر تک نئی سرمایہ کاری کو کینیڈا کی طرف راغب کرنا ہے اجلاس میں تقریباً 30 ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار شریک ہوئے جو مجموعی طور پر 100 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے اثاثے سنبھالتے ہیں
حکومت کے مطابق کینیڈا کے بڑے پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں اور دیگر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے تقریباً 100 ارب ڈالر کا نیا سرمایہ کینیڈین اثاثوں میں لگانے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ بڑے بینکوں نے کینیڈین کاروبار اور بنیادی ڈھانچے کے لیے تقریباً 325 ارب ڈالر کی نئی فنانسنگ فراہم کرنے کے وعدے کیے ہیں
اجلاس میں مصنوعی ذہانت، توانائی، اہم معدنیات، دفاع، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سینٹرز سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری پر توجہ دی گئی۔ سسکیچیوان میں بیل کینیڈا اور صوبائی حکومت نے 1.2 گیگا واٹ کے مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر مرکز کے لیے 52.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس سے حکومت کے مطابق 4,500 سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوں گی
کارنی حکومت نے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ایک نئی ٹیکس سہولت بھی متعارف کرائی ہے جسے پروڈکٹیوٹی میگا ڈیڈکشن کا نام دیا گیا ہے اس کے تحت کاروباری اداروں کو فائبر آپٹک کیبل، کان کنی کے منصوبوں، تیل اور گیس کی پائپ لائنوں، سافٹ ویئر، تحقیق و ترقی، کمپیوٹر آلات، طیاروں، گاڑیوں، ریلوے، پلوں اور سڑکوں سمیت زیادہ وسیع اقسام کی سرمایہ کاری کی لاگت فوری طور پر ٹیکس میں منہا کرنے کی اجازت ہوگی حکومت کے مطابق اس اقدام سے نئی کاروباری سرمایہ کاری پر کینیڈا کی مؤثر ٹیکس شرح تقریباً 13 فیصد سے کم ہو کر 6.4 فیصد رہ جائے گی
کارنی نے کینیڈا کے 4 بڑے ایئرپورٹس میں نجی سرمایہ کاری کی راہ بھی کھولنے کا اعلان کیا ہے منصوبے کے تحت ٹورنٹو، مونٹریال، وینکوور اور کیلگری کے ایئرپورٹس کی ملکیت وفاقی حکومت کے پاس برقرار رہے گی، تاہم طویل مدتی رعایتی معاہدوں کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کو ان کے آپریشن اور ترقی میں سرمایہ لگانے کا موقع دیا جائے گا حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے حاصل ہونے والا سرمایہ دوسرے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکے گا
کارنی نے اجلاس میں کینیڈا کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد ملک کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں کینیڈا کو اپنی معیشت کو مزید مضبوط بنانے اور امریکا پر روایتی انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی اور ٹیرف تنازع کے پس منظر میں حکومت یورپ، ایشیا اور دیگر عالمی منڈیوں کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانے پر بھی زور دے رہی ہے
اجلاس کے دوران ٹورنٹو میں احتجاج بھی کیا گیا۔l مزدور تنظیموں، Indigenous رہنماؤں، ماحولیاتی گروہوں، migrant حقوق کے کارکنوں اور سماجی انصاف سے وابستہ گروہوں نے حکومت کی سرمایہ کاری پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے مظاہرین نے بعض توانائی اور فوسل فیول منصوبوں، فوجی پیداوار، عوامی اثاثوں میں نجی سرمایہ کاری اور حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو دی جانے والی ٹیکس سہولتوں پر اعتراضات اٹھائے
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ بڑی سرمایہ کاری کے منصوبوں سے حاصل ہونے والے فوائد ہر طبقے تک یکساں طور پر نہیں پہنچ سکتے، جبکہ بعض گروہوں نے ماحولیاتی تحفظ، کارکنوں کے حقوق اور Indigenous برادریوں کی شمولیت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ نئے منصوبے روزگار پیدا کریں گے، پیداواری صلاحیت بڑھائیں گے اور کینیڈا کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ مسابقتی بنائیں گے
سرمایہ کاری اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا کے ساتھ کینیڈا کے تجارتی تعلقات شدید دباؤ میں ہیں۔ کارنی حکومت کا مؤقف ہے کہ کینیڈا کو عالمی سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے نئے راستے پیدا کرنے چاہییں تاکہ کسی ایک ملک پر معاشی انحصار کم ہو اور ملک اپنی توانائی، اہم معدنیات، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دفاعی صنعتوں میں اپنی صلاحیت بڑھا سکے
حکومت کے مطابق اجلاس کے نتیجے میں تقریباً 500 ارب ڈالر کے نئے سرمایہ کاری وعدے سامنے آنا اس حکمت عملی کا ابتدائی نتیجہ ہے، تاہم ان وعدوں کا اصل معاشی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ اعلان کردہ منصوبے عملی طور پر کب اور کس پیمانے پر مکمل ہوتے ہیں

قومی خبریں سے مزید