امریکہ سے بڑھتے اختلافات کے دوران یورپی پارلیمنٹ کا اوٹاوا میں دفتر کھولنے کا فیصلہ
یورپی پارلیمنٹ نے کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں اپنا نیا نمائندہ دفتر قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جسے کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی اور پارلیمانی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا کے مطابق نئے دفتر کے ذریعے دونوں جانب کے ارکان پارلیمنٹ کے درمیان رابطے اور باقاعدہ تبادلے بڑھائے جائیں گے جبکہ اس کی علاقائی سرگرمیوں کا دائرہ آرکٹک تک ہوگا
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم مارک کارنی کینیڈا کے امریکہ پر معاشی انحصار کو کم کرنے اور یورپ کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کارنی رواں ہفتے یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والے ہیں اور کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان ایک زیادہ منفرد اور وسیع شراکت داری کے امکانات پر بات چیت جاری ہے
نیا دفتر اوٹاوا میں پہلے سے موجود یورپی یونین کے سفارتی وفد کے ساتھ کام کرے گا یورپی پارلیمنٹ کے مطابق اس دفتر کا مقصد صرف رسمی رابطے قائم کرنا نہیں بلکہ تجارت، سلامتی، آرکٹک، توانائی، اہم معدنیات اور دیگر بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کے معاملات پر کینیڈا کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ براہ راست تعاون کو فروغ دینا بھی ہے
کینیڈا اور یورپی یونین کے تعلقات میں تجارت پہلے ہی اہم مقام رکھتی ہے دونوں فریق جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے کے تحت کاروباری روابط رکھتے ہیں، تاہم اس معاہدے کی یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی جانب سے مکمل توثیق ابھی باقی ہے کارنی یورپ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کو کینیڈا کی وسیع تر اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں
امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی نے بھی کینیڈا کو نئے معاشی شراکت دار تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے کارنی کا مؤقف ہے کہ کینیڈا کو کسی ایک ملک پر حد سے زیادہ انحصار کے بجائے اپنی تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داریوں کو متنوع بنانا چاہیے اسی تناظر میں یورپ کے ساتھ قریبی تعلقات کو کینیڈا کی معاشی اور اسٹریٹجک خودمختاری کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے
تاہم کینیڈا کے سابق یورپی یونین خصوصی نمائندے اسٹیفان دیون نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کو امریکہ کا مکمل متبادل سمجھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا ان کے مطابق کینیڈا کی مجموعی تجارت میں امریکہ کا حصہ اب بھی بہت بڑا ہے، جبکہ یورپی یونین کے ساتھ تجارت اس کے مقابلے میں کہیں کم ہے اس لیے اوٹاوا کی نئی حکمت عملی کا مقصد امریکہ سے تعلق ختم کرنا نہیں بلکہ دوسرے بڑے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرکے انحصار کم کرنا ہے
یورپی پارلیمنٹ کا اوٹاوا دفتر اسی بدلتی ہوئی حکمت عملی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ یورپی پارلیمنٹ کینیڈا میں اپنی مستقل پارلیمانی موجودگی قائم کرنے جا رہی ہے یورپی قیادت اسے کینیڈا اور یورپ کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھ رہی ہے، جبکہ کینیڈا کے لیے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن کے ساتھ تجارتی تعلقات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں





